وہ ملک جن میں کورونا وائرس کا نام و نشان ختم ہو چکا

اسلام آباد: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر کے کئی ملکوں اور خود مختار جزیروں میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے لیکن کچھ عرصے کے بعد یا تو ان ممالک میں سب مریض مکمل صحت یاب ہوگئے یا کورونا سے کچھ اموات کے بعد اس کا نام و نشان مٹ گیا۔

وسطی امریکہ کا ملک بیلز میکسیکو کا پڑوسی ملک کہا جاتا ہے اور اس کی آبادی تقریبا 4 لاکھ ہے۔ یہاں پہلے مریض کا علم 23 مارچ کو ہوا تھا جس کے بعد ایک ایک کرکے وہاں پر مزید 17 کیسز سامنے آئے۔ ان میں سے ایک مریض 6 اپریل اور دوسرا 10 اپریل کو چل بسا۔ باقی 16 مریض صحت یاب ہوگئے اور 13 اپریل کے بعد کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

فاک لینڈز جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہے جس کی کل آبادی تقریبا ساڑھے تین ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہاں پہلا مریض 3 اپریل کو سامنے آیا اور پھر 3 ہفتوں تک 13 کیسز سامنے آچکے تھے۔ لیکن یہ سب مریض اب صحت یاب ہوگئے ہیں اور 25 اپریل کے بعد نیا مریض نہیں سامنے آیا۔

دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ قطب شمالی اور بحر اوقیانوس کے درمیان واقع ہے جس کی آبادی 56 ہزار کے قریب ہے۔ یہ جزیرہ ڈںمارک کے زیر نگیں ہے۔ یہاں 16 مارچ کو پہلے مریض کی تصدیق ہوئی اور اگلے تین ہفتوں میں مزید 10 مریض سامنے آ گئے۔ یہ سب وائرس کو شکست دینے میں کامیاب رہے اور 4 اپریل کے بعد کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

جنوبی امریکہ کا ملک سری نام برازیل کا ہمسایہ ملک بھی ہے اور اس کی آبادی پونے 6 لاکھ بتائی گئی ہے۔ یہاں پہلے مریض کا انکشاف 13 مارچ کو ہوا تھا جس کے بعد مزید 9 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے ایک 3 اپریل کو دم توڑ گیا، جبکہ باقی صحت یاب ہوگئے۔ یکم اپریل کے بعد ابھی تک کسی نئے مریض کی تصدیق نہیں ہوئی۔

آسٹریلیا کے شمال میں واقع ملک پپوا نیو گنی انڈونیشیا کا پڑوسی ہے جس کی آبادی 89 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ یہاں 20 مارچ کو کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا جس کے بعد مزید 7 کیسز کا علم ہوا۔ یہ سب صحت یاب ہو گئے اور 22 اپریل کے بعد سے کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

اسی طرح سینٹ بارتھ بحر اوقیانوس میں جزائر غرب الہند کے قریب واقع ہے جس کی آبادی 10 ہزار سے بھی کم ہے۔ یہ فرانس کے زیر نگیں ہے۔ یہاں پہلا کیس یکم مارچ کو سامنے آیا تھا جس کے بعد مزید 5 مریضوں کا پتا چلا۔ یہ سب بھی وائرس کو ہرانے میں کامیاب ہوئے اور 30 مارچ کے بعد کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔

اینگیلا بھی بحر اوقیانوس میں جزائر غرب الہند میں واقع ہے اور اس کی آبادی صرف 15 ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ برطانیہ کی عمل داری میں ہے۔ یہاں 26 مارچ کو دو اور پھر 2 اپریل کو تیسرے کیس کی تصدیق ہوئی۔ تینوں مریض صحت یاب ہوگئے اور اس کے بعد ابھی تک کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔

اب تک 212 ملکوں اور خود مختار خطوں میں کورونا وائرس کے کیسز رونما ہوچکے ہیں۔ ان میں 37 ملک یا جزیرے وہ ہیں جہاں خوش قسمتی سے کورونا سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔ بحر ہند کے فرانسیسی جزیرہ ری یونین ان میں سرفہرست ہے جہاں کورونا کے 425 کیسز سامنے آچکے ہیں اور 300 مریض صحت مند ہوگئے ہیں جبکہ باقی بیماری کے مختلف مراحل میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment