بھارت سے ادویات کے خام مال کی پابندی نہ لگائیں ورنہ نقصان ہو گا


کراچی: حکومت سے دوا ساز کمپنیوں نے  مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے ادویات کے خام مال کی درآمد پر پابندی نہ لگائے کیونکہ ادویات کی تیاری کا زیادہ انحصار بھارتی خام مال پر ہوتا ہے، بصورت دیگر 50 فیصد نقصان ہوگا۔

کراچی پریس کلب میں پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے نمائندوں نے نیوز بریفنگ میں حکومت کو خبردار کیا کہ بھارت سے خام مال کی درآمد پر پابندی سے نہ صرف ادویات کی کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ کووڈ-19 کے خلاف پاکستان کے اقدامات بھی کمزور پڑجائیں گے۔

اس موقع پر  پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین سید فاروق بخاری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو بھارت یا دیگر ممالک سے ادویات کے خام مال کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ ملک میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک ایسے وقت میں جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک میں کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قرنطینہ مراکز، آئسولیشن کی سہولتیں اور ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز بنانے کے عمل میں ہیں اور ایسی صورت میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ادویات کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی دوا کی صنعت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کو جاری رکھے اور اس کے لیے ہمارے بین الاقوامی برآمدکنندگان سے خام مال کی مسلسل فراہمی کی ضرورت ہے’۔

 بھارت سے ادویات سازی کے خام مال کی درآمد پر بات کرتے ہوئے انہوں نے نشان دہی کی اور کہا کہ بھارت سے درآمد ایس آر او نمر 429 کے تحت کی جارہی ہے، جس کو وزارت تجارت اور نیشنل ہیلتھ سروس دونوں کی جانب سے منظور کیا گیا تھا۔

پی پی ایم اے کے سابق مرکزی چیئرمین ڈاٹر قیصر وحید نے ایک سوال پر کہا کہ 95 فیصد ادویات درآمدی خام مال کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں، جس میں بھارت سے تقریباً 50 فیصد جبکہ دیگر چین اور یورپ کے چند ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.