کورونا کی ویکیسن کی تیاری، پاکستانی کمپنی کا امریکی ادارے سے معاہدہ طے پا گیا

کراچی: فیروزسننز لیبارٹریز کی ذیلی کمپنی بی ایف بائیو سائنسز لمیٹڈ (بی ایف بی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ انکا کورونا کی دوا ‘ریمڈیسیور’ کی پیداوار اور پاکستان سمیت 126 ممالک کو فروخت کے لیے گیلیڈ سائنسز انکارپوریشن کے ساتھ لائسنس معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گیلیڈ سائنسز نے بھارت اور پاکستان کی 5 دواساز کمپنیوں سے لائسنس کا معاہدہ کیا جس میں سیپلا لمیٹڈ، فیروز سنز لیبارٹریز، ہیٹرو لیبز لمیٹڈ، جیوبیلانٹ لائف سائنسز اور میلان شامل ہیں۔یہ کمپنیاں ریمڈیسیور بنانے کے بعد 126 ممالک میں اس کو تقسیم کریں گی۔ان ممالک میں کم آمدنی والے ممالک سمیت متعدد امیر ترین ممالک بھی شامل ہیں۔

لائسنس معاہدے کے تحت کمپنیوں کو گیلیڈ مینوفیکچرنگ مرحلے کے لیے ٹیکنالوجی کے تبادلے کا اختیار ہوگا تاکہ پیداوار کو مزید تیز کیا جاسکے۔لائسنس حاصل کرنے والے اپنی بنائی ہوئی دوا کے لیے قیمت بھی خود طے کرنے کا اختیار رکھیں گے۔ یہ لائسنسز عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا سے متعلق عوامی صحت کی ایمرجنسی کو ختم کیے جانے یا کسی دوا ساز کمپنی کی جانب سے ریمڈیسیور سے بہتر دوا بنانے یا کورونا وائرس کی ویکسین سامنے آنے تک رائلٹی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل فیروز سننز لیبارٹریز نے بتایا تھا کہ ریمڈیسیور کی پیداوار کے لیے گیلیڈ سائنسزانکارپوریشن کے ساتھ ان کے لائسنس معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔ان کے اس اعلان کے بعد پیر کے روز تجارت کے دوران فیروز سنز کے حصص میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ سرمایہ کاروں کی اس کے حصص میں دلچسپی رہی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر دوا ساز کمپنیوں کے حصص میں بھی تیزی آئی۔ فیروز سنز لیارٹریز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’گیلیڈ اور بی ایف بی ایل کے درمیان اگر معاہدہ ہوا اور ایک مرتبہ پیداوار کا آغاز ہوگیا تو ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاس پاکستان میں مریضوں کو دینے کے لیے وافر مقدار موجود ہوگی‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ انہیں معاہدہ ہونے کے بعد مقامی ریگولیٹری منظوری اور دوا بنانے کے لیے ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزا حاصل کرنا ہوں گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی دوا ساز کمپنی گیلیڈ سائنسز نے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں پر بہتر نتائج فراہم کرنے والی دوا ‘ریمڈیسیور’ کی پیداوار شروع کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت میں ادویات کی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment