ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک میں انصاف کے نظام سے نالاں

اسلام آباد: ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی نقل وحرکت کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹرعبدالقدیر خان کا خط سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ جس میں عبدالقدیر خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ پرعدم اعتماد کا اظہار کیا۔ خط میں لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمے کے دوران زبردستی دستخط کروائے گئے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ مزید لکھا کہ حکومت نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقیر خان نے خط میں کہا کہ قید میں رکھنا میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مجھ پر درخواست واپس لینے کے لئے بھی دباو ڈالا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس یحی آفریدی نے عبدالقدیرخان کے وکیل توفیق آصف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اب تین راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ  اس درخواست پر بحث کریں، دوسرا آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دیں۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ درخواست واپس لے لیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ڈاکٹر عبدالقدیر مقدمہ چلانے کے لیے عدالت کی معاونت کریں۔ بطور جج اجازت نہیں دے سکتے کہ کسی ہائیکورٹ کے عزت و وقار میں کمی آئے۔سائل کتنا ہی معزز آدمی کیوں نہ ہو ہائیکورٹ کی عزت و تکریم میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ ایک ہائیکورٹ سے حکم لے کر دوسرے ہائیکورٹ جانے کی روایت قائم نہیں ہونے دیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کی رضامندی سے نقل و حرکت کو ریگولیٹ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں وہی درخواست کیسے دی گئی؟ جس پر ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے وکیل توفیق آصف نے اپنے جواب میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں درخواست غیر معمولی حالات میں دائر کی۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بھی ڈاکٹرعبد القدیر کے خط کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں انصاف کی امید نہیں۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت اس خط کو قبول نہ کرے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ اگر انہیں خط کے متن پر اعتراض ہے تو اس کے خلاف درخواست دیں اسکے ساتھ ہی درخواست گزار کو تنبیہ کی ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط سے کام لیں۔

سماعت کے اختتام پرعدالت نے ڈاکٹر عبد القدیرخان کے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنایا۔عدالت نےاسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ  معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment