چینی کمیشن وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مایوس

Sugar-Pakistan

چینی کمیشن نے تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا کر وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے بھی مدد مانگ لی۔

اس حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے نے سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو خط لکھا طلب کیا کہ انہیں بتایا جائے پاکستان میں گنے سے چینی نکلنے کی اوسط شرح کتنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گنے سے چینی کی صحیح مقدار جانچنے کیلیے کوئی آزادا طریقہ کار موجود نہیں۔ پاکستان کے برعکس خطے کے دیگر ممالک کے گنے میں چینی کی مقدار زیادہ ہے  علاوہ ازیں کمیشن نے وزارت کو جنوبی پنجاب، سندھ اور کے پی میں گنے کی لیب ٹیسٹنگ کیلیے بھی درخواست کی۔

ذرائع کے مطابق کمشن نے وزارت سے مہنگی چینی کی وجوہات کے ساتھ ساتھ ملز مالکان کے آپریشنل معاملات پر بھی رپورٹ مرتب کرنے کی درخواست کی۔ خط کے جواب میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کمیشن کو ایک ہفتے میں رپوٹ مرتب کرنے سے معذرت کر لی کہا کہ گنے کی لیب ٹیسٹنگ کرشنگ سیزن میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ دسمبر سے فروری کے دوران گنے کی تین مختلف اوقات میں سیمپلنگ کی جا سکتی ہے۔ وزارت نے مشورہ دیا کہ سیمپلنگ کے دوران گنے کی اقسام کے بارے میں محکمہ زراعت سے معاونت لی جائے اسکے ساتھ ہی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کمیشن کو شوگر ملز میں لیب ٹیسٹنگ سے متعلق شوگر ریگولیٹری اتھارٹی سے رابطہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔

دریں اثناء کمیشن نے وزارت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ  کورونا سے لے کر چاند پر تحقیق کا دعوہ کرنے والے ادارے کی اصل حقیقت یہ جوابی خط ہے۔

یاد رہے گنے میں شوگر کی مقدار کا پیمانہ چینی کی قیمت اور ملز مالکان کے منافع میں نہایت ہی اہم ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment