کورونا: عالمی جی ڈی پی میں آٹھ اعشاریہ آٹھ ٹریلن تک کمی ہو سکتی ہے، اے ڈی بی

ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی جی ڈی پی میں آٹھ اعشاریہ آٹھ ٹریلین تک کم ہوسکتی ہے ایشیا میں چوبیس کروڑ بیس لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اورعالمی تجارت دو ٹریلن تک کم ہو سکتی ہے۔

 کورونا کے بین الااقوامی اثرات پر اے ڈی بی نے رپورٹ جاری کر دی ہے رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت میں آٹھ اعشاریہ آٹھ ٹریلن تک کمی ہو سکتی ہے۔ تین ماہ تک لاک ڈاؤن سے ایشیائی جی ڈی پی میں ایک اعشاریہ سات ٹریلن اورچھ ماہ تک لاک ڈاؤن سے ایشیائی جی ڈی پی میں دو اعشاریہ پانچ فی صد تک کمی ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث بین الااقوامی سطح پر پیداوارمیں تیس فیصد تک کمی ہوُسکتی ہے۔ چین کی جی ڈی پی ایک اعشاریہ چھ ٹریلن تک کم ہو سکتی ہے۔ وائرس سے عالمی سطح پرنقصانات پانچ اعشاریہ چار فی صد تک ہو سکتے ہیں۔ کورونا وائرس کے اثرات سے صنعت کے شعبے میں آمدن ایک اعشاریہ آٹھ ارب تک کم ہو سکتی ہے۔حکومتوں کی طرف سے امدادی اقدامات سے عالمی سطح پر ہونے والے اقدامات میں پانچ اعشاریہ چار ٹریلئن تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کورونا وائرس سے سیاحت، کھپت، تجارت، صنعت اورسرمایہ کاری کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں سیاحت، سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث تجارت اور صنعتوں کی پیداوار میں کمی ہوئی۔ سفری پابندیوں، لاک ڈاون، سرحدوں کی بندش سے معاشی نقصان ہوا۔

موجودہ معاشی صورتحال میں پالیسیوں کا تعین کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اے ڈی بی نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کے باعث 158 ملین سے زائد لوگوں کے بے روزگار ہونے کاخدشہ ہےجبکہ ایشیائی ممالک میں زیادہ بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment