لاک ڈاون کے باعث بھارت میں خواتین پر ہونے والے تشدد میں اضافہ ہونے لگا

بھارت: ریاست چھتیس گڑھ میں کورونا وائرس میں مبتلا قرنطینہ سینٹر میں رہنے والے شوہر نے  بدچلن ہونے کے شبہہ میں سینٹر سے بھاگ کر اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران شادی شدہ خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ حکومت ایسی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اب خبر سامنے آئی ہے کہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے سرکاری قرنطینہ سینٹر میں موجود ایک شخص کو جب شک گزرا کہ ان کی بیوی کا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے تو وہ قرنطینہ سینٹر سے فرارہوگئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور کے قرنطینہ سینٹر سے 26 سالہ نوجوان للت کوروا فرار ہوکر گھر پہنچے تو انہوں نے بیوی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا تو وہ طیش میں آگئے اور انہوں نے بیوی کا ہاتھ ہی کاٹ دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کے بعد اہل محلہ نے خاتون کو ہسپتال پہنچایا مگران کے ہاتھ کو جوڑا نہ جا سکا اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔

گرفتار شوہر نے پولیس کو بتایا کہ وہ جب سے قرنطینہ سینٹر گئے تھے تب سے ان کی بیوی کا فون ہمیشہ مصروف رہتا تھا، جس پر انہیں اپنی بیوی کے کردار پر شک ہوا۔ ملزم کے مطابق بیوی کے کردار پر شک ہونے کے بعد ہی وہ قرنطینہ سینٹر سے فرار ہوئے اور جب وہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی پیار بائی کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ فون پر باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو وہ غصے میں آگئے اور انہوں نے ان کا وہی ہاٹھ کاٹ دیا جس میں انہوں نے فون کو پکڑا تھا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مزید کارروائی شروع کردی جب کہ خاتون کے ہاتھ کو جوڑا نہ جا سکا، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یاد رہے گزشتہ ماہ بھارت کی ریاست گجرات میں ایک شخص کی جانب سے لڈو گیم میں شکست کے بعد بیوی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی اور شوہر نے اپنی بیوی کی ریڑھ کی ہڈی تک توڑ دی تھی۔ اسی طرح لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کو نامناسب طریقے سے جنسی تعلقات استوار کرنے پر بھی شوہروں کی جانب سے مجبور کیے جانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment