کیا قانون کے رکھوالےقانون سے مبرا ہیں ؟

     کسی بھی ملک و معاشرے میں امن و استحکام  کیلئے ہر ادارے کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جب تک ہر ادارہ اپنی ذماداریوں کا احساس کرتے ہوئے اور دوسرے اداروں کی حدود کا ااحترام کرتے ہوئے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتا ہےتب تک معاشرے میں اعتدال ،امن، استحکام اور مضبوطی قائم رہتی ہے، اداروں پر عوام کا اعتماد ہوتاہےاور لوگ فخر سے اپنے اداروں کا تعرف کرواتے ہیں،لیکن اگر ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگیں ،سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوجائیں اور اپنی طاقت کا غلط استعمال کرنے لگ جائیں تو معاشرے میں انارکی، افراتفری، جنم لیتی  ہےاور جہاں ادارے عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں وہیں اداروں کے سربراہان کے احکامات کی تاثیر زائل ہونے لگتی ہے اور معاشرہ گروہوں میں بٹنے لگ جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ تخریب کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کو پہنچتا ہے ۔

معاشرے میں امن و امان کےقیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئےپولیس کے محکمہ کام کرتا ہے،ملک میں قانون کے نفاظ کی اہم ذماداری اسی ادارے کے کندھوں پر ہے، ظالم افراد کےخلاف عوام کی امید کا واحد مرکز بھی یہی ادارہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن ذرہ تصور کیجئے اگر یہی ادارہ خود قانون ہاتھ میں لینے لگےاور ظالموں کی سرپرستی اس کا معمول بن جائے تو ملک و معاشرہ کس طرف گامزن ہوگا، بدقسمتی سےوطن عزیر میں یہ ادارہ قیام پاکستان سے ہی مشکلات کا شکار رہا ہے، بے جاسیاسی مداخلت اور فنڈز کی کمی نے اس ادارے کی ساک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جہاں یہ عوام کا اعتماد کھو بیٹھا ہے وہیں آئے روز کسی نہ کسی عدالت کے سامنے اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک میں کسی  ادارے نے اگر شہرت کی بلندیوں کو چھوا تو وہ بھی پولیس  ہی کا ادارہ ہے ، جس میں پنجاب پولیس کو ممتاز مقام حاصل ہے،جھوٹی ایف آئی ار کا اندراج،عوام سے زبردستی وصولیاں ، ٹارچرسیلز کاقیام، مار پیٹ ،انکاونٹرزاور رشوت خوری وہ   نمایاں عوامل ہیں،جن سے پولیس پہچانی جاتی ہے، اسی بنا پر زیادہ تر لوگ تھانے کا رخ کرنے سے قبل ہی معاملات کو سلجھانے میں عافیت جانتے ہیں، سیالکوٹ کے دوبھائیوں کا قتل ہویا پھر راولپنڈی میں دوشہریوں کا پولیس کی  فائرنگ کے نرغے میں آنا، ماڈل ٹاون کے سانحاے کو بھلاہم میں سے کون بھول سکتا ہے، جس میں پولیس نے اپنے ٹاوٹ کا استعمال بھی کیا، ایک طویل عدالتی جنگ کے بعد آج بھی وہ بے کس و لاچارگھرانے انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔

ہر آنے والی حکومت نے پولیس ریفارمز کا راگ الاپا اور کپتان کا اولین مقصد بھی  پولیس کو سیاست سےاور سیاست کو پولیس سےپاک کرنا تھا، کے پی کے حکومت کی بار بار مثالیں دے کر عوام کو پھر پھسلایا گیا اور پھر اسی حکومت میں ہم نے سانحہ ساہیوال ہوتا دیکھا۔

ملک کر دیگر حصوں سے گلگت بلتستان میں پولیس کا رویہ نسبتا بہتر اور عوام دوست تصور کیا جاتا رہا ہے، یہاں کے افسران اور جوانوں کی اہلیت پر بھی کم ہی شکوک و شبہات رہے ہیں اور خاص کر بلتستان میں جرائم کی شرح بھی دیگر علاقوں کی نسبت ہمیشہ سے بہتر اور حوصلہ افزا رہی ہے ، جس کا سہرا اس ادارے کےحکام بالا اور جوانوں کے سر  جاتا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں تصویر کے رخ میں تبدیلی رونما ہوتی ہوئی نظر آتی ہے، عوام کے محافظ عوام ہی کے خلاف برسرپیکار نظر آتے ہیں اور دن بہ دن ان واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،جو کہ نہ صرف عوام کیلئے بلکہ ادارے کیلئے بھی تشویشناک ہے، لاک ڈاون اور کرونہ کی آڑ میں وردی کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے، جس کا شاہد سوشل میڈیا ہے، کیونکہ اب کیمرے کی آنکھ سے کسی بھی واقعہ کو دور رکھنا ممکن نہیں رہا ، سب سے پہلے ہم نے  سکردو میں اطہر نامی ایک  پولیس اہلکار کو ایک شہری پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا، جس پر عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا، لیکن کو ئی مناسب کاروائی نہ کی گی،جس نے دیگر اہلکاروں کو شے بخشی، پھر سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ سے ایک طالب علم سید فرخ کے ساتھ پولیس کا ناروا سلوک سب نے دیکھا ،مارکیٹوں کی بندش  اور جرمانوں کے سلسلے میں پولیس کے امتیازی رویے کی وجہ سے بھی عوام پریشان نظر آتے ہیں اور اب کچھ روز قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ رونما ہوا ، جب  ہسپتال کی چوکی پر معمور چند پولیس اہلکاروں نے ایک نوجوان سید جلال عباس کاظمی کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ ثابت کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی گی کہ پولیس پر ظلم ہوا ہے،سید جلال کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ،  جو کہ ایک  ذمادار ،اعلی تعلیم یافتہ سلجھا ہوا شہری ہے،میٹرک میں پبلک سکول اینڈ کالج سے ٹاپ کیا اور ایف ایس سی اقرا کالج سے امتیازی نمبرز سے پاس کیا، گلگت بلتستان میں چند ایک چارٹر اکاونٹنٹ ہیں جن میں سےایک سید جلال بھی  ہیں، جو آج کل اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کمپنی کے ساتھ منسلک ہیں،انکی صاف گوئی اور شرافت کی گواہی ہر واقفیت رکھنے والا بغیر کسی آر کے دیتا ہے ،اس واقعے کے بعد ڈپارٹمنٹل انکوائری کروائی گی اور اس انکوائری کے نتیجے میں  پولیس اہلکاروں  کی غلطی ثابت ہونے پر ان کی سالانہ مرعات کی نا صرف کٹوتی کی گی ہے بلکہ ملوث اہلکاروں کو تا حکم ثانی معطل بھی کر دیا گیا ہے،جب اہلکاروں کے خلاف  ایف آئی ار کا مطالبہ کیا گیا تو اسے حکام نے یہ کہہ کر مسترد کر  دیا کہ اس سے پولیس کا مورال پست  ہوتا ہے،جو کہ ایک تعجب کی بات ہے،ایک ایسے ادارے کی جانب سے جو خود کو عوام کا محافظ گردانتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا عوام پر چڑھائی کر کے پولیس کا مورال بلند ہوتا ہے؟ کیا  عوام کی عزت و ابرو سے پولیس کا مورال مقدم ہے ؟اور کیا پولیس کا ادارہ قانون سے مبرا ہے ؟کیا قوانین کا نفاذ صرف کمزور اور لاچار افراد پر ہوتا ہے؟ اگر کوئی شخص غلطی کا مرتکب بھی ٹہرتا ہے تو پولیس کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ بیچ چوراہے میں ہی  کاروائی کا آغاز کر دے؟  

یہاں یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ سکردو کے مرکزی ہسپتال میں ایسی کونسی عافت آن پڑی ہے کہ وہاں پولیس کی چوکی قائم کی گی ہےاور باقاعدہ ایک کمرہ پولیس اہلکاروں نے قبضہ میں لے رکھا ہے ، جہاں پرسید جلال کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس ادارے کے ذماداران کو ان سوالات پر غور کرنا ہوگا اور مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے ملوث اہلکاروں کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا ورنہ وردی کی آڑ میں جاری یہ غنڈہ گردی ، عرض بلتستان جیسے پر امن خطے میں منافرت اورطبقاتی نظام کو جنم دے گی ، جو کہ نہ ہی ادارے اور نہ ہی عوام کے حق میں ہے

متعلقہ خبریں

Leave a Comment