برسلز میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کا انوکھا احتجاج

بیلجیئم: عالمی وباء کورونا میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن ہیروز کے طور پر کام کر رہے ہیں جنہیں اس وباء سے نمٹنے کے لیے سہولیات فراہم کرنا نہایت ضروی ہے لیکن کئی ممالک میں ان ہیروز کوسہولیات کی فراہمی میں لاپرواہی اور فقدان کا سامنا ہے۔

تفصیل کے مطابق یورپی ملک بیلجیئم کے ڈاکٹرز اور طبی عملہ ناقص سہولیات اور کم تنخواہیں ملنے کے باعث پریشان حال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیلجیئم کی وزیراعظم صوفی ویلیئم برسلز میں سینٹ پریئراسپتال کا دورہ کرنے پہنچیں تو اسپتال کے طبی عملے نے ان کے استقبال پر خوش آمدید کہنے کے بجائے پیٹ پھیر کے خاموشی سےاحتجاج کیا۔

برسلز کے مقامی میڈیا کے مطابق طبی عملے کا وزیراعظم کے خلاف یہ احتجاج کم تنخواہیں، میڈیکل بجٹ میں کٹوتی، کورونا وائرس کے علاج کے لیے حفاظتی سامان کی فراہمی میں لاپرواہی اور نرسنگ پینل کے لیے غیر تجربے کار افراد کو بھرتی کرنے پر کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بیلجیئم میں طبی عملے کا احتجاج کا یہ طریقہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگیا ہے۔

خیال رہے موذی کورونا وائرس سے بیلجیئم میں اب تک 9 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 55 ہزار 280 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment