پاکستان نے جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ 2020 کو مسترد کر دیا

اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (پروسیجر) 2020  کو مسترد کردیا گیا۔  

تفصیل کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں سے ان کی زمین کا اختیار چھیننے کی بھارتی حکومت کی کوششوں کی سختی سے مذمت کی اور اپنے بیان میں کہا کہ ’نیا ڈومیسائل قانون، غیر قانونی ہے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین بشمول جنیوا کنونشن اور پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی معاہدوں کی سراسر خلاف ورزی ہے‘۔

دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ڈومیسائل قانون کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اوریو این کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے حق خودارادیت کے مطالبے کو ناکام بنانا ہے۔ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے، اس طرح کے اقدامات نہ تو متنازع نوعیت کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو چھین سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے بھی اس نئے ڈومیسائل قانون کو  ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مکمل طورپرمسترد کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے حکام نے نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے وفاقی اکائی میں سرکاری نوکریوں اور دیگر مراعات کے لیے ڈومیسائل سرٹفکیٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری شرائط واضح کی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں