شوگر کمیشن کی تہلکہ خیز رپورٹ آ گئی، بڑے بڑے نام ملوث، رپورٹ پبلک کر دی گئی

Sugar-Pakistan

اسلام آباد: شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کر دی گئی  ہے۔ کمیشن کی مذکورہ  رپورٹ میں  حکومت۔ اپوزیشن اور شوگر مل مالکان میں سے بیشتر کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔وفاقی کابینہ نے رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کر دی گئی  ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے اور شوگر کمیشن کے سربراہ  واجد ضیاء کی طرف سے وفاقی کابینہ کو پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دینا غلط فیصلہ تھا۔ چینی پر دی جانے والی سبسڈی کا فیصلہ بھی غلط تھا۔رپورٹ میں  ای سی سی اور کابینہ کے فیصلوں  پر بھی رپورٹ میں سوالیہ نشان لگایا گیا ہے۔

347 صفحوں پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل جہانگیر ترین کی ملکیت ہےجنہوں نے 56 کروڑ روپے کی سبسڈی لی۔ المعیز اور تھل شمیم احمد خان کی ملکیت ملز ہیں جنہوں نے  40 کروڑ روپے کی سبسڈی لی۔آر وائے کے اتحاد اور ٹو سٹار شوگر ملز مخدوم عمر شہریار کی ملکیت ہیں۔یہ مخدوم خسرو بختیار کے قریبی عزیز ہیں اور چوہدری مونس الہی مخدوم عمر شہریار کے پارٹنر ہیں۔اس گروپ نے 45 کروڑ روپے کی سبسڈی لی۔انڈس شوگر مل غلام دستگیر کی ملکیت ہے جس نے 14 کروڑ کی سبسڈی حاصل کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے چینی ایکسپورٹ پر اس وقت سبسڈی دی جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔7 لاکھ 62 ہزار ٹن چینی میں سے 4 لاکھ 74 ہزار ٹن چینی اس وقت تک ایکسپورٹ ہو چکی تھی جب سبسڈی واپس لی گئی۔پنجاب حکومت کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔سبسڈی سے 15 شوگر ملز نے فائدہ اٹھایا۔

واضح رہے شوگر انکوائری کمیشن 10 مارچ کو تشکیل دیا گیا۔شوگر کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا۔شوگر کمیشن ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں 6 رکنی ممبران پر مشتمل تھا۔کمیشن میں ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس۔ ڈپٹی ڈی جی آئی بی احمد کمال، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ای سی پی بلال رسول۔ جوائنٹ ڈائرکٹر سٹیٹ بینک ماجد حسین چوہدری سمیت ڈی جی ایف بی آر انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر بشیر اللہ خان بھی کمیشن کا حصہ تھا۔انکوائری کمیشن نے 63 دنوں میں رپورٹ تیار کی۔ کمیشن نے220 مختلف افراد سے پوچھ گچھ کی۔  رپورٹ میں 600 ارب روپے سے زائد مالیت کے بے نامی کاروبار کا آڈٹ کیا گیا۔کمیشن نے اسد عمر۔ خرم دستگیر اور شاہد خاقان عباسی کے بیانات ریکارڈ کیے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور رزاق داود بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔وزیراعلی سندھ  طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment