وزیرستان ویڈیو اسکینڈل: 6 مرکزی ملزمان گرفتار ہو گئے

میرامشاہ: پولیس افسرکی جانب سے ایک ’قابلِ اعتراض‘ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 2 نوجوان لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ڈی پی او شمالی وزیرستان شفیع اللہ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے جڑے تمام 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مرکزی ملزم محمد اسلم لڑکیوں کا چچازاد بھائی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مقامی نوجوان کے ساتھ لڑکیوں کی ویڈیو سامنے آنے پر انہیں قتل کیا جب کہ ویڈیو بنانے اور پھیلانے والے ملزمان پہلے گرفتار ہو چکے ہیں۔ گرفتار ہونے والے دیگر ملزمان میں فدا محمد ولد جہانگیر،رادول خان ولد جمداد خان اور روح الدین ولد شاہ عالم شامل ہیں۔

پولیس نے اس سے قبل بھی دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا جن میں ایک لڑکی کا بھائی امین خان اور دوسرا ملزم دوسری لڑکی کا والد رسول خان ہیں۔

یاد رہے گزشتہ روز پولیس افسرکی جانب سے ایک ’قابلِ اعتراض‘ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 2 نوجوان لڑکیوں کے غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات کے لیے شمالی وزیرستان کے پولیس افسر شفیع اللہ گنڈا پور کی سربراہی میں 4 رکنی جے آئی ٹی (مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) تشکیل دے دی گئی تھی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دیگر اراکین میں ڈی ایس پی شاہد عدنان، سب انسپکٹرز میر صاحب خان، محمد نواز اوراسسٹنٹ سب انسپکٹر فرمان علی شامل تھے۔

اس حوالے سے شفیع اللہ گنڈا پور کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمر ایاز کو گرفتار کیا ہے جس نے ویڈیو بنائی اور اس ویڈیو میں نظر بھی آرہا ہے، ویڈیو پوسٹ کرنے والے عمر ایاز کے دوست فدا محمد، ایک لڑکی کے والد رادول خان اورایک لڑکی کے چچا زاد بھائی روح الدین کو گرفتار کرلیا ہے۔ جبکہ 16 اور 18 سال کی عمر کی لڑکیوں کا ایک کزن اور مبینہ قاتل محمد اسلم روپوش ہوگیا ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا تھا کہ پولیس نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا ہے اور مختلف ویب سائٹ سے مذکورہ ویڈیو ہٹانے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ لڑکیوں کو 14 مئی کو قتل کیا گیا تھا جبکہ رمزک پولیس اسٹیشن میں 15 مئی کو درج ہوا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment