کورونا ویکسین: حکومتوں کو جلد بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، سائنسدان

امریکہ: ایک معروف سائنسدان ویلیئم ہیسٹ نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کو عالمی وبا کے باعث کیے گئے  لاک ڈاون میں نرمی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس وباء کے علاج کے لیے جلد بننے والی کامیاب ویکسین پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے۔

اس حوالے سے ویلیئم ہیسٹ لائن نے کہا ہے کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ انفیکشن کا احتیاط سے سراغ لگایا جائے اور جب یہ پھیلنا شروع ہو تو آئیسولیشن کے سخت اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کیلیے تیار کی گئی ویکسین پر اعتماد نہیں کرسکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک نے عوام پر زور دیا کہ ماسکس پہنیں، ہاتھ دھوئیں، جگہ صاف کریں اور فاصلہ برقرار رکھیں اور اس حکمت عملی کا کامیابی سے استعمال کیا جبکہ امریکا اور دیگر ممالک نے وائرس کے خطرے کا شکار تمام افراد کو ’جبری طور پر تنہا‘ کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تجرباتی کووِڈ 19 کی ویکسین کے جانوروں پر تجربے سے جسم کے دیگر اعضا مثلاً پھیپھڑوں میں وائرس کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملی تاہم وائرس موجودرہا۔  ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو کووِڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کی جانب سے انٹی باڈیز سے بھرا عطیہ کردہ پلازما لگایا جارہا ہے اور ادویہ ساز اس سیرم کے ریفائینڈ اور سیر شدہ محلول تیار کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائپرامیون گلوبلن کے نام سے معروف پروڈکٹس سے پہلا حقیقی علاج ہونے جارہا ہے۔

خیال رہے کہ عام طور پر ایک ویکسین کی تیاری میں کئی برس لگتے ہیں مگر کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کی رفتار کے باعث ویکسین کی تیاری بھی بہت تیزی سے ہورہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment