کیا آپ ذائقے دار ٹڈی دل کھانا چاہیں گے؟

تحریر صبا بجیر


ٹڈی دل کا نام سنتے ہی مختلف رنگوں کے کیڑے کا خیال آجاتا ہے اور ایک جھرجھری سی آجاتی ہے کوئی وقت ہوتا تھا کہ تھر کے ریگستانوں میں ٹڈی دل کو ڈھونڈا جاتا تھا کیوں کہ وہاں یہ شوق سے کھائی جاتی تھی اور تحفے کے طور پر بھی سندھ اور ملک کے دور دراز علاقوں میں بھیجی جاتی تھی اور مختلف طریقوں سے اسکو بنایا جاتا تھا جس میں ہلکے گھی کے ساتھ تڑکہ اور مرچ مسالے والی ٹڈی پسند کی جاتی تھی اور 6 ماہ سے 8 ماہ تک محفوظ کرکے رکھنے کے لیے ٹڈی دل کو نمک لگا کہ سکھایا جاتا تھا جو تحفے کے طور پر سندھ کے لاڑ والے علاقے ٹھٹہ بدین ساحلی پٹی سمیت پورے پاکستان میں تحفے کے طور پر بھیجی جاتی تھی اور لوگ شوق سے کھاتے بھی تھے ٹڈیوں کو آگ کے انگاروں میں بھون کے کھایا جاتا تھا اور تحفے میں وہ ہی نمکین ٹڈی دی جاتی تھی کیوں کہ یہ جلدی خراب نہیں ہوتی تھی اور یہ ٹڈی دل تھر کے علاقوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر محفوظ کی جاتی تھی کیوں کہ کبھی کبھی یہ لوگوں کو کسی موسم میں ملتی تھی لوگ اسے خدا کی جانب سے تحفہ سمجھ کر رکھتے تھے اور لوگوں کو ٹڈی دل کا زائقہ مچھلی جیسا لگتا تھا بقول انکے ایسے لگتا جیسے مچھلی کھارہے ہیں وہ تو کچھ سال پرانا وقت تھا جب ٹڈی کسی نعمت سے کم نا تھی کیونکہ ایک ایک کو پکڑ کر کسی نایاب چیز کی طرح سمبھالا جاتا تھا پر اب وقت گزرنے کے ساتھ اسکو پکانے کے انداز بھی بدل گئے ہیں اس وقت بھی ٹڈی دل کے چاول پلائو اور ٹڈی دل کڑہائی لوگ شوق سے کھاتے ہیں جبکہ مرچ مسالے والی ٹڈیوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے آپ کو پڑھ کر عجیب لگ رہا ہوگا پر یہ سب آنکھوں دیکھا حال ہے جو بیان کرنے پر مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ نئے دور میں کہیں ٹڈی دل کی سویٹ ڈش سامنے نا آجائے ٹڈی دل کھیر یا ٹڈی دل کا حلوہ یا پھر پڈنگ ہمارے ملک میں یہ بات ایک فیشن ہے کہ جب کوئی نئی چیز آئے تو ہر کوئی اسکو کھانے کی سب سے پہلے کوشش کرتا اس وجہ سے تو کہتے کہ پاکستانی عوام لکڑ پتھر ہضم کرنے میں کمال کرتی ہے۔ پر اس وقت ملک بھر میں ٹڈیوں کے حملوں کی وجہ سے پریشانی بڑھتی جارہی ہے پنجاب سندھ بلوچستان کے پی کے حتی کہ پورے ملک میں ٹڈیوں کے حملے جاری ہیں اور جون کا پہلا ہفتہ ٹڈی دل کے حوالے سے بہت خطرناک ہے کیوں کہ ٹڈیوں کے حملے بڑھ جائینگے اس وقت ملک بھر کے 61 اضلاع ٹڈیوں کے حملوں سے متاثر ہیں جن میں بلوچستان میں 31 اضلاع، خیبر پختونخواہ میں 11، پنجاب میں 12 اور سندھ میں 7 اضلاع کافی متاثر ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی کے 1500 جوان متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں اور رات کو اسپرے بھی کیا جارہا ہے 9 جہاز اس وقت ٹڈی دل کے متاثرہ علاقوں میں اسپرے کے کام میں بھی مصروف ہیں جن میں سے 5 جہازوں پر امریکہ سے منگوائی گئی کٹس بھی لگائی گئی ہیں جو رات کے اندھیرے میں ان علاقوں پر اسپرے کرتی ہیں جہاں پر ٹڈی دل کا زیادہ حملہ ہو۔ این ڈی ایم کے ترجمان کے مطابق اب تک پنجاب میں 700 ہیکٹر پر اسپرے کیا گیا جبکہ بلوچستان میں 1400 ہیکٹر خیبر پختونخوا میں 900 ہیکٹر اور سندھ میں گزشتہ روز 600 ہیکٹر پر اب تک اسپرے کیا گیا ہے جبکہ دوسرے علاقوں کا سروے جاری ہے اس وقت پاکستان ٹڈی دل کے حوالے سے ہائی رسک پر ہے کیوں کہ ٹڈی دل کی افزائش بارش کے دنوں میں ہوتی ہے اور ایک ٹڈی دل 80 کے قریب انڈے دیتی ہے اور جب بارش ہوتو ٹڈی دل کے انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں کیوں کہ انڈوں کو نمی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں بارشوں کا موسم قریب ہے جس کی وجہ سے پریشانی بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.