وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا، بجٹ تجاویز کی تیاریاں میں تیزی آگئی، وفاقی بجٹ تجاویز 2 جون کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی، ملکی سلامتی کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ کی تجویز ہے۔

تفصیل کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے 12 جون سے قبل باقاعدگی کے ساتھ بجٹ بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے آئندہ بجٹ کے مجموعی حجم میں 10 فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں ساڑھے سات ہزار ارب سے زیادہ کا وفاقی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ محصولات کا ہدف 4100 سے 4500 ارب مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 530 ارب روپے تک مختص کئے جانے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 200 ارب سے زیادہ مختص کئے جاسکتے ہیں۔

رواں سال وفاقی بجٹ میں تین ہزار ارب روپے تک کا خسارے متوقع ہے۔ بجٹ میں کورونا سے نمٹنے ،کاروباری طبقے کے ریلیف کے لئے 1 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعمیراتی صنعت کو وفاقی بجٹ میں خصوصی مراعات دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ زرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں بنیادی اشیائے خورونوش پر ٹیکس کی شرح مزید کم ہوگی۔ ادویات سے متعلق اشیاء پر بھی ٹیکس کی شرح میں کمی کا امکان ہے۔وفاقی حکومت نے ہیلتھ بجٹ صوبوں سے مشاورت کے ساتھ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی صحت بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کا امکان ہے ذرائع کے مطابق ملکی سلامتی کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ آئندہ بجٹ میں بڑے گھروں اور فارمز ہاوسز پر لگژری ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے۔  2 سے 4 کنال کے بڑے گھر پر ایک لاکھ تا دو لاکھ لگژری ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔4 کنال سے بڑے فارم ہاوس پر اضافی ٹیکس لگایا جائے گا اور انتقال فیس میں اضافہ متوقع ہے۔ علاوہ ازیں بجٹ میں بڑی گاڑیوں، قیمتی ٹائلز سمیت ایمپورٹڈ لگژری آئٹمز پر ٹیکس لگائے جانے کی تجویز ہے۔ آئندہ بجٹ میں پر تعیش اشیاء پر ٹیکس میں اضافے کا بھی امکان ہے۔ 160 ایمپورٹ آٹٹنز پر دو فیصد ڈیوٹی لگانے کا بھی امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment