صدارتی ریفرنس: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نئی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی


اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کے معاملے میں نئی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو دغاباز اور بہروپیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر نے غیر قانونی طریقے سے میری اور خاندان کی معلومات حاصل کیں۔ شہزاد اکبر کا ایسٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین کا عہدہ بھی غیرقانونی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وزیر قانون فروغ نسیم توہین عدالت کے مرتکب ہوئے۔ وزیر قانون فروغ نسیم الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا سے تشبیہ دیتے رہے۔ سابق اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور شہزاد اکبر نے حکومتی ایما پر بدنیتی پر مبنی ریفرنس تیار کیا ہے۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے درخواست میں موقف اختیارکیا کہ شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر کس ادارے میں ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ اس کا خاندان کہاں ہے؟ کچھ نہیں بتایا گیا۔ فردوس عاشق اعوان نے میڈیا پر ججز کے احتساب کی باتیں کیں، قانون میں کہیں درج نہیں کہ خود مختار بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی جائیں۔


اپنا تبصرہ بھیجیں