امریکہ میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر پرتشددمظاہرے، کئی شہروں میں کرفیو نافذ


اسلام آباد: امریکہ میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں پرتشدد احتجاج اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ خراب اور بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی اہم شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔حالات خراب ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی زیرزمین بکتر میں چلے گئےہیں۔

پر تشدد مظاہروں کے بعد 16 ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ حکام نے بدامنی کا مرکز بننے والے شہروں واشنگٹن ڈی سی، ہیوسٹن، منیاپولس اور لاس اینجلس میں رات کا کرفیو نافذ کیا ہے۔ شکاگو، ،میامی، ڈیٹرائٹ اور فلاڈیلفیا بھی ان 40 شہروں میں شامل ہیں جن میں رات کے وقت مظاہرے کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور ورجینیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

منیاپولس، لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد احتجاج کے دوران دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ نیو یارک اور میامی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے جب کہ وائٹ ہاؤس سے ملحقہ پارک میں مظاہرین کے احتجاج کے بعد مظاہروں سے نمٹنے والی فورس کے دستے بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

امریکہ میں کئی ہفتوں سے جاری کورونا وائرس لاک ڈائون کے بعد سڑکوں پر مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی نے بحرانی کیفیت پیداکردی ہے۔ ادھر واشنگٹن میں بھی سیکڑوں مظاہرین نے محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔خیال رہے کہ گزشتہ پیر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر اپنے گھٹنے سے دباؤ ڈال رہا تھا جو بعد میں دم توڑ گیا تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.