حکومت نے شوگر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کر دیا


اسلام آباد: حکومت نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے شوگرمافیا نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے فوجداری، ٹیکس چوری، ریگولیٹری اور کرپشن کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ کاروائی صرف ایسی شوگر ملز اور افراد کیخلاف نہیں ہوگی جن کے نام شوگر کمیشن میں سامنے آئے تھے بلکہ متعلقہ اداروں سے کہا جائے گا کہ وہ دیگر شوگر ملوں کا بھی فارنزک آڈٹ کریں تاکہ ہمیشہ کیلئے ’’شوگر مافیا‘‘ کا معاملہ ختم کیا جا سکے۔ حکومتی اقدامات میں گرفتاریاں، مقدمات کا اندراج، فوجداری مقدمات کا اندراج، ٹیکس کارروائی اور ریگولیٹری اقدامات شامل ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سبسڈی کا معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو دیا جا سکتا ہے تاکہ ایسے تمام افراد بشمول وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کی جا سکیں جو گزشتہ پانچ سال سے سبسڈی دے رہے ہیں۔  وزیراعظم کی ہدایت پر ان کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ شہزاد اکبر شوگر کمیشن کی سفارشات کے مطابق شوگر مافیا کیخلاف کارروائی کیلئے اقدامات اور تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ شوگر مافیا کیخلاف ایکشن پلان کو رواں ہفتے ہی حتمی شکل دے کر اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے جو لوگ ایکشن پلان مرتب کر رہے ہیں وہ شوگر کمیشن کی سفارشات پر انحصار کر رہے ہیں۔

یاد رہے شوگر کمشن کی رپورٹ کے مطابق 9 شوگر ملوں کا فارنزک آڈٹ کیا گیا تھا ان میں تقریباً تمام ملز غلط اقدامات میں ملوث تھیں۔ کمیشن کے مطابق یہ تمام شوگر ملز اربوں روپے کے کارپوریٹ فراڈ میں ملوث ہیں۔ پوری شوگر انڈسٹری نے بتایا کہ انہوں نے 124 ارب روپے کی چینی فروخت کی ہے جس میں سے 43 ارب روپے کی چینی رجسٹرڈ افراد کو فروخت کی گئی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.