لداخ تنازعہ: چین بھاری ہتھیار اور لڑاکا طیاروں سمیت میدان میں اتر آیا

اسلام آباد: بھارتی فوج کی نقل و حرکت کے بعد چین بھی بھاری ہتھیار اور لڑاکا طیاروں سمیت میدان میں آ گیا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی بدترین صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کی افواج میں ایک بار پھر سنگین جھڑپیں ہوئیں۔ چین کے ہاتھوں مار کھانے والے بھارتی فوجیوں کی نئی تصاویر بھی سامنے آگئیں۔ چینی حکام کی جانب سے ٹوئٹر پر زخمی بھارتی فوجیوں کی تصاویر شیئر کی گئیں۔

دونوں ممالک کی جانب سے لداخ اور سکم سمیت لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چین کی جانب سے لداخ کے متنازعہ علاقے میں بنکر تعمیر کردیئے گئے ہیں جبکہ بھارتی فوج بھی بنکروں کی تعمیر میں مصروف ہے۔ چین کے کچھ خیمے وادی گالوان کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔

بھارتی تجزیہ کار اجے شکلا کے مطابق بھارتی فوج اس وقت حیرت زدہ رہ گئی تھی جب گزشتہ ماہ 5 مئی کو تقریباً 5000 چینی فوجی گالوان وادی میں داخل ہوگئے۔ 12 مئی کو اسی طرح کے ایک دیگر واقعے میں بھی تقریباً اتنی ہی تعداد میں چینی فوجی پیونگ یانگ جھیل سیکٹر میں بھی پہنچ گئے۔ جنوبی لداخ کے ڈیم چوک اور شمالی سکم کے ناکو لا میں بھی چینی فوج داخل ہوئی۔

یاد رہے تنازعہ اور کشیدہ صورت حال پر بھارت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے لیہ میں 14ویں کور کے ہیڈکوارٹرز کا خاموشی سے دورہ کیا اور چوٹی کے کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں بھارت اور چین کے درمیان حقیقی کنٹرول لائن کے اطراف کے علاقوں کی سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ بھی لیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment