جاسوسی کے الزام میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو عہدیداروں کو بھارت چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: بھارت کی ہٹ دھرمی تھمنے کا نام نہیں لے رہی بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے دو عہدیداروں پر جاسوسی کا الزام عائد کرکے انہیں 24 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو رات گئے دفتر خارجہ طلب کیا۔ پاکستان کی جانب سے احتجاجی مراسلہ بھارتی ناظم الامور کے حوالے کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھارتی ناظم الامور کو پاکستانی ہائی کمیشن کے سٹاف ممبرز کو ناپسندیدہ قرار دینے کی مذمت کی گئی۔ بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ بھارتی اقدام سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اس موقع پر پاکستان نے عالمی برادری سے بھارتی اقدامات پر نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا  کہ بھارتی حکام نے دو پاکستانی ہائی کمیشن کے ارکان کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا مگر پاکستانی ہائی کمیشن کی مداخلت پر انہیں رہا کیا گیا۔ انہوں نے کہا دونوں اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا پاکستانی ہائی کمیشن سفارتی آداب کے مطابق کام کرتا ہے۔ بھارتی عمل کا مقصد پاکستانی ہائی کمیشن کی کارکردگی کو متاثر کرنا ہے۔ بھارت ایسے اقدامات سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment