چوں چک چراں چوں

آپ سب سوچ رہے ہونگے یہ کیسا عنوان ہے کونسی زبان لکھی ہے اتنے عرصے بعد اچانک سے لکھا بھی تو کیا ، بھئی ادب سے جنکا گہرا تعلق ہے وہ تو یقینا سمجھ گئے ہیں کہ بات یہاں سائیکل کی ہونے والی ہے، یہ الفاظ بھی میں نے ایک شعر سے لیے ہیں جو کہ کچھ اسطرح سے ہے کہ

شاعر کی ہر اک چیز ہے اہلِ زباں

ہے سائیکل بھی روڈ پر ایسے رواں

مستفعلن کا یوں مسلسل ورد ہے

چوں چک چراں چوں چک چرانچوں چک چراں

کیا ہے کہ 3 جون سائیکل کا عالمی دن ہے اس لیے خیال آیا کہ کچھ ذرا تو ہٹ کے لکھا جائے ، یہ خیال بھی اچانک آیا کہ جب سائیکل کے عالمی دن کے لیے اپنے ٹی وی چینل کے لیے رپورٹ بنانی تھی ، کتنا ظالم ہے نا وقت کہ اس نے آسان سواری کو بھی لوگوں کی توجہ سے محروم کر دیا ہر کوئی چاہتا ہے اس کے پاس نئی لش پش بڑی چار پہیوں کی فراٹے بھرتی گاڑی ہو ، ایسی گاڑی کہ جب روڈ پر چلے تو ہر کوئی واہ واہ کرے ، خاندان دوست احباب میں سب میں اسکی واہ واہ ہو اور پھر اسی چار پہیوں کی مشین سے وہ جسمانی مشقت سے محروم ہو کے پھر خود کو فٹ رکھنے کے لیے جم ایکسرسائز کا سہارا لے، وقت اتنی تیز رفتاری سے بھاگتا گیا کہ دو پہیوں کی سواری سائیکل جسکا نہ پٹرول نہ سی این جی کا خرچہ لوگ اسے لینے میں شرم محسوس کرنے لگے کہ معاشرے میں عزت نہ ہوگی اور پھر اس سائیکل کی چوں چک چراں چوں چک چراںچوں چک چراں بھی کون برداشت کرے ، جب سائیکل پرانی ہو جائے تو یہ آواز بھی بھیانک چیخوں کی سی پھر لگنے لگتی ہے، غریب سائیکل کو آخر 2018 میں عزت بخشی گئی اور 3 جون کو پہلی بارعالمی دن منایا گیا تاکہ دوبارہ سائیکل چلانے کو فروغ دیا جا سکے ، یا پھر یوں کہیے کہ شاید بڑی بڑی لگژری گاڑیاں بنانے والے بھی تسلیم کر چکے تھے کہ سائیکل ہی صحت کے لیے بہترین ہے وقت بھلے منزل پر پہنچنے کے لیے زیادہ لگے مگر سفر کرتے کرتے ایکسرسائز بھی ہو جاتی ہے یعنی ایکسرسائز کے لیے اضافی وقت نہیں نکالنا پڑتا پھر پٹرول سی این جی کا خرچہ الگ بچتا ہے،

ویسے سائیکل کو دوبارہ سڑکوں پر لانے کیلئے ڈنمارک کی مثال دی جاتی ہے جہاں پچاس فیصد باشندے سائیکل پر سفر کرتے ہیں اور یقینا وہ لوگ فٹ بھی رہتے ہیں، ہماری موجودہ حکومت بھی بہت امپریس ہوئی ڈنمارک کے اس اقدام سے پرخیر یہ تبدیلی تو یہاں نہیں آئی لیکن کچھ شہری ضرور اس بارے سنجیدہ ہوئے اور اور اپنی بڑی گاڑیاں چھوڑ کر خصوصا کچھ وقت غریب سائیکل کو بھی دے دیتے ہیں جن میں اسلام آباد کے شہری خواجہ ظہیرالدین کا نام قابل ذکر ہے ،

میں نے رپورٹ بنانے کے لیے خواجہ ظہیرالدین صاحب سے وقت لیا اور دشوار گزار راستے یعنی ٹریل فائیو کا انتخاب کیا کہ وہاں رپورٹ بنائی جائے گی لیکن ٹریل فائیو پر جانے نہ دیا گیا تو ہم نے ایک دوسرے مقام کا انتخاب کیا ناہموار راستہ درختوں کے بیچ بہت خوبصورت راستہ تھا، اور آپ حیران ہونگے کہ 71 سالہ ظہیرالدین بڑی مہارت سے سائیکل چلاتے ایسے جیسے کوئی کم عمر لڑکا سائیکل دوڑاتا ہو ، انہوں نے کہا کہ انکا مشن ہے کہ مشینی زندگی سے نکل کر صحت مند زندگی گزاری جائے اور سائیکل اور صحت کے مشن میں وہ دوسرے شہریوں کو بھی سائیکل کی جانب واپس لائیں گے،، ظہیر الدین خواجہ نے کورونا کی مہلک وبا میں قوت مدافعت کے لیے بھی سائیکل کو بہترین ورزش قرار دیتے کہا کہ سائیکل چلانا ایسی صورتحال میں مفید ہے کیونکہ قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے،

خواجہ ظہیرالدین نے سائیکل کا یہ سفر تنہا نہیں کیا انکے ساتھی شعیب فاروقی اور بہت پیاری سی لڑکی چمن بھی اپنی اپنی سائیکل پر ان کے  ساتھ تھے ، شعیب فاروقی نے کہا کہ ناہموار راستوں پر سائیکل چلانا زیادہ اچھا ہے اور چمن نے کہا کہ لڑکیوں کو بھی سائیکل چلانا چاہئیے فٹنس سینٹر کا جھنجٹ بھی ختم ہوگا اور وہ اپنے کام بھی خود کر سکیں گی محتاج نہیں ہونگی، خیر سبز درختوں کے دامن میں چوں چک چراں چوں چک چرانچوں چک چراں کے ساتھ یہ تمام افراد اپنی سائیکلیں دوڑاتے رہے کہ فٹ رہنا ہے تو سائیکل چلاوَ

انسان بہت دور ہو گیا ہے جسمانی مشقت سے ورزش سے واک سے ، ایک طرف انسان خرچوں کا رونا روتا ہے تو دوسری جانب وہ آسائشوں کو نہیں چھوڑتا ۔ ان تین افراد کے علاوہ بھی یقینا بہت سے دیگر افراد ہیں جو سائیکل چلاتے ہیں لیکن رجحان اب ویسا نہیں ، جبکہ دیکھا جائے تو انسانی جسم کے لیے سائیکل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ یہ جسم کے پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے تو سائیکل چلائیں کیونکہ سائیکل باڈی بلڈنگ اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں  بہت ہی مفید ہے اور خاص طور پر سائیکلنگ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے بہترین ورزش ہے جو جسم میں موجود زائد کیلوریزکو جلانے میں مدد گار ثابت ہو تی ہے ، گاڑی چلانا بھلے نہ چھوڑیں لیکن کچھ وقت غریب سائیکل کو بھی دیں فٹ رہنے کے لیے ، بس چوں چک چراں چوں چک چرانچوں چک چراں کے ساتھ سائیکل چلاتے جائیں کیلوریز گراتے جائیں فٹ ہوتے جائیں ، دعاوَں میں یاد رکھئیے

متعلقہ خبریں