چندا ماموں اور چاند گرہن

تحریر: روزینہ علی


چاند سے تو ہر کسی کا بچپن سے ہی ایک عجیب سا خوبصورت میٹھا میٹھا سا رشتہ ہے، بچے ہوں یا بڑے پیار سے اکثر ہی چاند کو چندا ماموں پکارتے ہیں ، محبت کے قصوں میں چاند کے تذکرے بھی خوب ہوتے ہیں اور شاعری میں بھی چاند اور احساس کے انمول خزانے ملتے ہیں،، بچوں کے لیے ٹی وی پر بنائے گئے اشتہار میں بھی چندا ماموں کا تذکرہ ہوتا ہے ،ہنسنا روٹھنا ، منانا دل کی باتیں کرنا سب چندا ماموں کو پکار کے ڈھیر باتیں کرتے ہیں کہ جیسے ایک پیارا سا دوست سب کھٹی میٹھی باتیں سن رہا ہو،

چاند کسے اچھا نہیں لگتا ہر عمر کا فرد آسمان کی خوبصورتی بڑھاتے چاند کا دیوانہ ہے، گزشتہ شب کی بات ہے جب میں اپنی امی بہنوں کے ساتھ مارگلہ پہاڑیوں کے قریب ایک خالی سڑک جس پر اسٹریٹ لائٹس جگمگا رہی تھیں اس پر ٹہل رہی تھی کہ آسمان پر نگاہ پڑی ، بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا روشن چاند اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہا تھا بہت خوبصورت منظر تھا میں نے فورا وقت ضائع کیئے بغیر موبائل سے تصویر بنا لی ، ایک اچھے مہنگے کیمرے اور موبائل سے تصویر میں فرق ہوتا ہے لیکن بہرحال کچھ حد تک میرے موبائل نے بھی منظر کو خوبصورتی بخش ہی دی تھی اور تصویر کے ساتھ کچھ لکھنے کی بھی کوشش کی لیکن الفاظ نہ ملے ،آپ یہ تحریر پڑھتے پڑھتے سوچتے ہونگے کہ موضوع گرہن کا اور بات کہاں جا رہی ہے تو جناب بات سے بات نکلتی ہے خیالات کی لڑیاں آپس میں ملتی ہیں تب ہی تو خوبصورت الفاظ تحریر ہوتے ہیں خیرکیا کہنے اس چاند کے جس نے بادلوں سے جھانکتے ماحول کو سحر انگیز بنا دیا تھا میں کیا آپ بھی سب دیکھتے تو کھو جاتے اس سحر میں اور جی کرتا کہ چاند سے آج ڈھیروں ڈھیر باتیں ہوں اور رات ختم نہ ہو خاص طور پر تب جب اس حسین منظر میں ٹھنڈی ہوا تازگی بخش رہی ہو سکون دے رہی ہو،، ٹھنڈی ہوا میرے خیالات کو بھی تسکین بخش رہی تھی جس مقام پر میں تھی مارگلہ پہاڑیوں کے قریب وہاں تو ماحول ویسے ہی بہت پرسکون تھا چاند کو اس خالی سڑک پر کافی دیر تک تکتے تکتے خیال آیا کہ 5 اور 6 جون کی درمیانی شب چاند گرہن بھی ہونے والا ہے، ٹھنڈی ہوا کا مزہ لیتے اس سڑک پر آنے سے کچھ دیر پہلے ہی جون میں ہونے والے دو گرہن چاند اور سورج گرہن کی خبر دی تھی اس لیے فورا ہی چاند کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے کے بعد گرہن کا خیال بھی آ گیا تھا اور میں نے فورا امی بہنوں کو مخاطب کیا کہ چاند گرہن ہے جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب،

5 اور 6 جون کی درمیانی شب ہونے والے چاند گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات 10بجکر 46 منٹ پر ہوگا 12 بجکر 25 منٹ پر چاند گرہن اپنے عروج ہوگا اور 2 بجکر 4 منٹ پر چاند گرہن ختم ہو جائے گا چاند گرہن پاکستان سمیت یورپ،ایشیاء، آسٹریلیا ، افریقہ، جنوبی امریکہ، پیسیفیک، اٹلانٹک انڈین اوشین اور انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا لیکن آخر چاند گرہن کیوں ہوتا ہے بچے جب بڑوں سے سنتے ہیں تو پریشان ہوتے ہیں کہ چندا ماموں بیمار ہوگئے ،، اور کچھ بڑے تو اب بھی پاکستان میں توہمات کو پلو سے باندھے پھر رہے ہیں، چاند گرہن کیوں ہوتا ہے ؟؟؟ اس سوال کی جانب بہت کم سوچا جاتا ہے یا غور کیا جاتا ہے،، سائنس کے مطابق زمین اپنے محور کے گرد گردش کے دوران اگر چاند اور سورج کے درمیان آجائے اور زمین کا سایہ چاند پر پڑنے لگے تو چاند کا وہ حصہ تاریک ہوجاتا ہے۔ یوں زمین پر دکھائی دینے والا چاند اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔لیکن آج بھی کئی دیہاتوں میں یا سائنسی دنیا کو نہ ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے اعمال کی بنیاد پر چند کو گرہن لگتا ہے اور کئی لوگ آج بھی چاند گرہن کا ہونا برا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سال بھاری ہوگا اللہ جانے کیا حقیقیت ہے لیکن آج بھی کئی لوگ اس سے مختلف قسم کے توہمات وابستہ کر لیتے ہیں جیسے کہ خصوصاً حاملہ خواتین کو خاصی احتیاط برتنے کو کہا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی تو نہایت منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔حاملہ خواتین کو چاند گرہن کے موقع پر گھر کے اندر رہنا چاہیئے وغیرہ وغیرہ ،، چاند گرہن یا سورج گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، دعا استغفار کرنا چاہئیے ذکر اذکار کرنا چاہئیے لیکن توہمات سے بھی بچنا چاہئیے، دعاوَں میں یاد رکھئیے گا


Leave A Reply

Your email address will not be published.