بھارت: عبادت گاہیں، شاپنگ مالز اور ریستوران کھولنے کی اجازت


نئی دہلی — بھارت میں کرونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے باوجود حکومت لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے ملک بھر میں آٹھ جون سے عبادت گاہیں، دفاتر، شاپنگ مالز اور ریستوران کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

لیکن ان مقامات پر اب پہلے کی طرح رش کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ سینیٹائزر کے استعمال، ماسک اور سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی پابندی ہو گی۔

حکومت نے اُن مقامات جہاں کرونا کے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے، اُنہیں فی الحال نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ صحت نے اس سلسلے میں ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔ ان مقامات پر 65 سال سے زائد عمر کے افراد، حاملہ خواتین اور 10 سال سے کم عمر بچوں کا داخلہ ممنوع ہو گا۔

ان مقامات پر سماجی فاصلے، ہاتھوں کی صفائی اور فیس ماسک کی سختی سے پابندی کرنا ہو گی اور لوگوں کا داخلہ مرحلہ وار ہو گا۔

عبادت گاہوں میں جانے والے جوتے اپنی گاڑیوں یا پھر الگ رکھیں گے۔ مذہبی کتابوں، مجسموں یا مورتیوں کو چھونا ممنوع ہو گا۔ مندروں میں نہ تو پرساد دیے جائیں گے اور نہ ہی چڑھاوا ہو گا۔

ریستورانوں میں نشستوں کا انتظام سماجی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے کرنا ہو گا اور نصف نشستیں خالی رکھنا ہوں گی۔ داخلی دروازوں پر ہی ہینڈ سینیٹائزر رکھے جائیں گے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی مسجدوں، مندورں، گورداروں اور گرجا گھروں کے ذمہ داران کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

دہلی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری کے مطابق اُنہوں نے مسجد کھولنے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ حکومت کی ہدایات کی سختی سے پابندی کی جائے گی۔ مسجد میں نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔

دہلی کی دوسری بڑی مسجد، مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حکومت کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس نے جو ایڈوائزری جاری کی ہے اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے مسجد کے اندر کیے جانے والے انتظامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ہماری مسجد میں سینیٹائزیشن کی تیاری چل رہی ہے۔ سماجی فاصلے کو یہاں بھی برقرار رکھا جائے گا۔

ان کے بقول “نمازی کس طرح مسجد میں آئیں گے اور یہاں ان کے لیے کیا انتظام کیا جا رہا ہے اس بارے میں ہم نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جو اردو اور ہندی میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔”

مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کو ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پمفلٹ میں ہم نے خاص طور پر کہا ہے کہ نمازی ماسک لگا کر آئیں اور سماجی فاصلے کو ہر حال میں قائم رکھیں۔ صابن سے بار بار ہاتھ دھوتے رہیں، اپنے منہ، ناک اور آنکھ کو ہاتھ نہ لگائیں۔ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے انفیکشن کا خطرہ ہو۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ گھروں سے وضو کر کے آئیں اور مسجد کے حمام، ٹوائلٹ یا وضو خانے کا استعمال نہ کریں۔

لوگوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں مسجد میں نہ آئیں۔ بلکہ جس طرح سے ابھی تک گھروں میں نماز ادا کرتے رہے ہیں اسی طرح کوشش کریں کہ اب بھی گھروں میں ہی نماز ادا کریں۔

دیگر مساجد کے ذمہ داروں کی جانب سے بھی نمازیوں کی ہدایات کے لیے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کو تاہم اب بھی خدشہ ہے کہ اگر مساجد میں زیادہ تعداد میں نمازی آئے تو مزید خطرہ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح تبلیغی جماعت پر کرونا پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی طرح کہیں پھر مسلمانوں پر ایسا الزام عائد نہ کر دیا جائے۔

اس بارے میں مفتی مکرم احمد کہتے ہیں کہ مسلمان کچھ کریں یا نہ کریں ان پر الزامات تو لگیں گے۔ لہٰذا ہم الزامات کے ڈر سے اپنا کام نہیں چھوڑیں گے۔

معروف سماجی کارکن اویس سلطان خان کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے سلسلے میں میڈیا اور حکومت کی کافی بدنامی ہو چکی ہے اس لیے اب شاید ایسا الزام کوئی نہیں لگا سکتا۔

دوسری بات یہ بھی ہے کہ صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں بھی کھولی جا رہی ہیں۔ پھر بھی مسلمانوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں کرونا وائرس کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں اب تک دو لاکھ 27 ہزار کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ وائرس سے اب تک 6500 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں


اپنا تبصرہ بھیجیں