وزیراعظم نے شوگر بحران کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن پلان کی منظوری دے دی


ویب ڈیسک : وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے معاون خصوص برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں بھی یہ فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم تمام ان لوگوں کا احتساب کریں گے جنہوں نے اس ملک کے عوام کو ، اس ملک کے اداروں کو اور اس ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب چینی کا بحران آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے فوراً ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا، روایت تو ہمیشہ یہی رہی ہے کہ فوراً انکوائری کمیشن بن جاتا ہے لیکن اس کی سفارشات پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا اور وقت کے ساتھ لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اس بارے میں بہت سنجیدہ تھے لہٰذا انہوں اس کمیشن کی رپورٹ کو بھی پبلک کیا، کئی لوگوں کا خیال تھا کہ اسے عوام کے سامنے نہیں لایا جائے گا، اس کے بعد فارنزک آڈٹ ہوا اور اس پر بھی لوگوں کے شکوک تھے کہ بات شاید اس سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ شوگر کے شعبے میں بڑے بڑے طاقتور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ناصرف مقررہ وقت پر فارنزک آڈٹ ہوا بلکہ اس کی تفصیلات بھی عوام کو بتائی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرے حصے کے تحت انضباطی فریم ورک میں جو تبدیلیاں شامل ہیں جس میں انڈسٹری اور کمیشن کی رپورٹ کو یکجا کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا اور سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ شوگر کی قیمتوں کو لے کر کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ قیمتیں اس معیار پر واپس آ جائیں جو چینی کی پیداواری قیمت ہے، پہلی مرتبہ کمیشن نے چینی کی قیمت معلوم کی ہے کیونکہ اس سے پہلے شوگر مل ایسوسی ایشن والے ہی بتاتے تھے کہ چینی کتنے میں بتاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سفارشات کو لے کر میں گیا تھا جنہیں وزیر اعظم نے منظور کر لیا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.