لڑنا ہے یا ڈرنا ہے اس وبا کا کیا کرنا ہے!!!

ڈرنا نہیں ہمیں لڑنا ہے اس وبا کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑنا ہےیہ سن سن کے کان پک گئے لیکن اب جا کر اس کا مطلب سمجھ میں آیا جب سچ میں ہماری عوام اس وبا کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی. اور ایسے پیچھے پڑی کے اسے تن من دھن کے ساتھ لگا کر گھوم رہی. ارے بھئی ڈرنا نہیں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے سریس ہی نہیں لینا، وبا کو وبا سمجھو ایسی وبا جس نے پوری دنیا کو مفلوج کر کے رکھ دیا، زندگی کا پہیہ ایسا جام ہوا کہ دنیا فانی ہوتی دیکھائی دے رہی ہے. کاروباری زندگی، سرمایہ کاری معیشت سب بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ملک کا دیوالیہ ہوتا دیکھائی دے رہا لیکن پھر بھی ہم اس سے ڈر نہیں رہے. ہمارے وسائل اتنے نہیں کہ ہم اس کا مقابلہ کرسکیں. اللہ نے جن مسیحاؤں (ڈاکٹرز) کو ہماری جانیں بچانے کیلئے بھیجا وہ خود اس جنگ میں ساتھ ساتھ قربان ہو رہے ہیں. کوئی امیرہو یاغریب، کسی بھی پیشے سے وابستہ انسان، صحافی ہو یا سیاستدان، بچہ ہو یا بوڑھا، بہت سے نوجوان سب اس کا لقمہ اجل بن رہے ہیں.
کورونا سے متاثرہ افراد اس کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں جنھوں نے اس وبا سے جنگ لڑتے لڑتے اپنے لختِ جگر کھودیے، کئی گھر اجڑ گئے، جہاں ہم شاذونادر مساجد میں کسی کے مرنے کا اعلان سنا کرتے تھے اب یکِ بعد دیگرے ایک ہی محلے گلی کوچوں سے کئی جنازے ایک ساتھ اٹھتے دیکھائی دے رہے ہیں. ایک متاثرہ شخص اپنے ساتھ پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور پھر آپ کی تھوڑی سی لاپرواہی آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے اردگرد کے لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے لیکن پھر بھی ہم نے ڈرنا نہیں صرف لڑنا ہے.
لڑتے لڑتے ہم اس نہج پر آگئے کے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گئے ہیں. خبروں کی شہ سرخیوں نے ذہنی طور پر مفلوج بنا رکھا ہے. ایک وقت میں مختلف واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں سمجھ نہیں آتی کن پر بھروسہ کریں کن پر نہیں. ایک طرف کورونا وائرس میں مبتلا افراد کو قرطینہ سینٹرز میں علاج کے لیے لے جایا جاتا ہے تو اگلے ہی روز اس کے مرنے کی اطلاع موصول ہو جاتی ہے. کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کے پیارے اپنے پیروں پر چل کر ہسپتالوں تک جاتے ہیں لیکن واپسی 4 لوگوں کے کندھوں پر ہوتی ہے اور ایسا کرنے پر حکومت کو بیرون ممالک سے فنڈز ملتے ہیں جیسی خبریں سوشل میڈیا میں سرگرم ہیں. اور اسی ڈر سے بہت سے لوگ اس مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے وہاں جانے سے ڈرتے ہیں کہ آیا وہ زندہ واپس بھی آئیں گے یا نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایسے بہت سے کورونا کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے اور کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہیں جو اس مرض سے لڑے اور صحتیاب ہو کر پہلے کی طرح نارمل زندگی گزار رہے ہیں. اور کچھ بدنصیب اپنوں کی بےحسی کا بھی نشانہ بنے جیسا کہ لاہور میں ایک نجی کالج کے پروفیسر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ان کے اہل خانہ انہیں گھر میں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے جس کے باعث ان کا انتقال ہوگیا، زرائع کے مطابق پروفیسر صاحب کا بیٹا بھی کورونا کی جنگ میں جان کی بازی ہار گیا، ستمگری کا عالم دیکھیں تو پھر کیوں نا قیامت ہم پر ان ٹوٹے. اس وبا نے زہنی، نفسیاتی، جسمانی، معاشی، سماجی اور اقتصادی قتل کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں.
دوسری جانب لمحہ فکر یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس وبا کی پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں، اس کی علامات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جتنی تیزی سے یہ پھیل رہا ہے اسی طرح اس کی علامات اور شرحِ اموات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور اس کی وجہ ہماری لاپرواہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں.
عید سے پہلے اور بعد کے اعدادوشمار ہمارے سامنے ہیں، عید اپنوں کے سنگ ہوتی ہے، جب وہ اپنے ہی ساتھ نا رہیں تو ایسی ہزاروں عیدیں قربان کر دینی چاہئیں لیکن نہیں ہمیں تو عید کرنی تھی نئے جوڑے پہنے تھے ان نئے جوڑوں میں کتنے نئے کفن خریدے گئے آپ کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں. مانا کہ دنیا فانی ہے لیکن اس دنیا کو اپنے ہاتھوں سے فنا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے. خدارا ابھی بھی وقت ہے اس وبا سے مل کر لڑنا اور ڈرنا ہے، ڈرنا ایسی موت سے ہے جس میں آپ کے اپنے آپ کے پاس نا ہوں، ڈرنا ایسی موت سے ہے جہاں آپ کو اپنا کوئی غسل دینے والا نا ہو، ڈرنا ایسی موت ہے جس میں آپ کو اپنا کوئی لحد میں اتارنے والا نا ہو. بچوں ایسی موت سے اور دوسروں کو بھی بچاؤ.
بلاوجہ گھروں سے باہر نا نکلیں، چند پیسے کمانے کے چکر میں کورونا کو گھر میں داخل مت ہونے دیں، ماسک، سینیٹائزکا استعمال جاری رکھیں. اگر آپ میں اور آپ کے قریب کسی بھی شخص میں کورونا کی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹروں کی بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق ادویات کا استعمال کریں، اپنے کھانے پینے کا خیال رکھیں، خود کو اس ملک کو اس وبا سے پاک بنائیں.

متعلقہ خبریں

Leave a Comment