قابض بھارتی فورسز کا نو کشمیری مجاہدین شہید کرنے کا دعویٰ

اتوار کو ہونے والی تازہ ترین جھڑپ کے بعد مقامی آبادی اور قابض بھارتی افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ اپریل کے بعد مختلف جھڑپوں میں کم از کم 50 کشمیری شہید اور 23 بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مجاہدین اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران نو مجاہدین شہید ہوگئے ہیں۔

کشمیر پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق شوپیاں کے علاقے پنجورا میں 24 گھنٹوں کے دوران دو کمانڈر سمیت نو مجاہدین کو انکاونٹر میں شہید کیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ہونے والی تازہ ترین جھڑپ کے بعد مقامی آبادی اور بھارتی افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ اپریل کے بعد مختلف جھڑپوں میں کم از کم 50 مجاہدین شہید اور 23 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ تصادم جاسوسی کے الزامات کے تحت بھارت سے پاکستان کے سفارتخانے کے دو اہلکاروں کی ملک بدری کے کچھ ہی دن بعد سامنے آیا ہے۔

بھارتی عہدیداروں اور مقامی افراد نے بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی صبح متنازع وادی کے ریبان گاؤں میں کے محاصرے کے بعد شروع ہوا جب کشمیری مجاہدین ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے۔

محاصرے کے دوران سینکڑوں کشمیری دیہاتی جھڑپ والے مقام کے قریب گلیوں میں جمع ہو گئے جنہوں نے بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا اور ‘بھارت واپس جاؤ’ کے نعرے لگائے۔

پولیس کے ایک اور اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور دھاتی چھرے فائر کیے۔ تاہم اس تصادم میں فی الحال کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

نئی دہلی نے اگست میں متنازع خطے جموں و کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت کو منسوخ کر کے لاک ڈاؤن لگا دیا تھا جس سے مواصلات بند اور نقل و حرکت محدود ہو گئی تھی۔

حالیہ مہینوں میں کرونا وائرس کی وبا کے باوجود اس خطے میں کرفیو میں نرمی کی گئی ہے۔

اتوار کو ہونے والی جھڑپ شمالی سوپور کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان کے ہلاک ہونے کے ایک دن بعد ہوئی۔

اس حملے کا مقصد معلوم نہیں ہوسکا لیکن پولیس نے اس ہلاکت کا ذمہ دار عسکریت پسندوں کو ٹھہرایا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علحیدگی پسند گروپ خطے کی آزادی یا اس کے پاکستان میں ضم کرنے کے لیے کئی دہائیوں سے جد و جہد کر رہے ہیں اور اس تحریک کو عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

1989 سے اب تک اس لڑائی میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوگئے جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

بھارت اپنے حریف پاکستان پر کشمیریوں کو سرحد پار سے مسلح کرنے اور دہشت گردوں کو وادی میں بھیجنے کا الزام عائد کرتا ہے تاہم اسلام آباد ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment