ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکسوں وصولیاں،حکومت کی لیے بڑا چیلنج


ویب ڈیسک ۔ ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکسوں وصولیوں میں اضافہ پی ٹی آئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوا ہے۔

رواں مالی سال کا بجٹ پرائیویٹ سیکٹر سے لائے گئے چارٹڈ اکاونٹنٹ سید شبر زیدی نے تیار کیا ، اور ایف بی آر کو 5500 ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ، بجٹ میں کئی برآمدی اشیاء کی مقامی فروخت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا گیا اور 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط متعارف کرائی گئی جو بری طرح ناکام ہوگئیں۔

مالی سال کی پہلی شش ماہی کے دوران ایف بی آر نے 2407 ارب روپے کا ٹیکس حاصل کیا اس دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 16 فیصد سے اضافہ جاری تھا مگر جنوری کے مہینے میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی طویل رخصت پر چلے گئے ، اور ایف بی آر کی سربراہی گریڈ 22 کی افسر نوشین جاوید امجد کے سپرد کردی گئی مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ٹیکس اہداف میں ناکامی کے پیش نظر ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 5500 ارب روپے سے کم کرکے 4800 ارب روپے کردیا گیا مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر ہی ملک بھر میں کورونا وائرس کی وباء پھوٹ پڑی اور 15 مارچ سے لاک ڈاون کردیا گیا ، لاک ڈاون کے باعث ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں 800 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 3900 ارب روپے مقرر کردیا گیا

رواں مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران ایف بی آر نے 3518 ارب روپے کا ٹیکس وصول کرلیا ہے ، گذشتہ برس اسی عرصے میں 3266 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا تھا ، جولائی سے مئی تک ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں محض 7.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے گیارہ ماہ کے دوران ایف بی آر نے انکم ٹیکس کی مد میں 1302 ارب ، سیلز ٹیکس کی مد میں 1439 ارب اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 225 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس اکٹھا کیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات ، ٹیکسوں میں اضافے ، کرپشن کے خاتمے اور ٹیکسوں کے مشکل نظام کے خاتمے کا پی ٹی آئی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔

 

 


Leave A Reply

Your email address will not be published.