کورونا کا گورکھ دھندا، کما لو جلدی

آپ سب سوچتے ہونگے شاید کورونا سے کوئی نوکری مل رہی ہے، یا جسے کورونا ہو رہا ہے اسے پیسے مل رہے ہیں ذہن میں سو طرح کے سوالات اُٹھ رہے ہیں، ہیں نا؟؟ چلیے کورونا سے کیسے کما لو اس بارے بتاتی ہوں آپ کو، لیکن اگر آپ دکاندار ہیں،. ریڑھی بان ہیں، درزی ہیں یا کسی بھی پیشے سے منسلک ہیں ڈاکٹر ہیں یا پھر حکیم تو خدارا عمل مت کیجیے گا، بالکل نہیں

جب سے کورونا آیا اور خاص طور پر پاکستان کا رخ کیا تو عجیب ہی تماشا لگ گیا ہر ایک بس چند دنوں میں عوام کو لوٹ کے لکھ پتی بننا چاہتا تھا، کورونا نے نیا نیا جلوہ دکھایا تو 5 روپے والا فیس ماسک 50 روپے، 100 یا 250 سو میں فروخت ہونے لگا، سینیٹائزر مارکیٹ سے غائب کر دیئے گئے اور دام دگنے کیا تگنے رکھے گئے کہ یہ وقت تھا کورونا سے کمانے کا، فیس ماسک جو دکانوں پر کئی مہینے یا پھر سال بھر سے زیادہ پڑے سڑتے رہتے تھے اور بمشکل نزلہ زکام یا پولن کے موسم میں فیس ماسک کو شرف بخشا جاتا تھا وہ ماسک مہنگے کیے گئے دکانداروں کو جیسے یقین تھا کہ کورونا ان کے آس پاس نہیں بھٹکے گا تو یہ ماسک اور سینیٹائزر گاہک کی مجبوری ہوگا وہ لازمی لیں گے، اتنا ہی نہیں کئی دوائیوں کی قیمتوں کو پر لگے، خیر عوامی شکایات پر نوٹس ہوا ایکشن لیا گیا،، ذرا گاہک کی مجبوری بننے والے ان احتیاطی تدابیر کے ہتھیاروں ماسک اور سینیٹائزر کی قیمتوں کو لگام پڑی، قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں بہت کم نہیں ہوئیں

کورونا وائرس کے بہانے جہاں میڈیکل سٹورز پر یہ عالم تھا وہیں کئی ڈاکٹرز نے بھی فیس بڑھا دی تھی کہ کمائی کے تو یہی دن تھے، اتنا ہی نہیں رمضان المبارک کے بعد کورونا وائرس بھی جیسے گراں فروشوں اور من چاہی قیمتیں وصول کرنے والے کاروباری حضرات کے لیے جیسے نعمت سے کم نہیں، کوروناوائرس کے باعثِ سبزیاں پھل اس قدر مہنگے ہوئے کہ غریب کہ لیے مزید روٹی کھانا ہی مشکل ہو گیا،، کورونا میں پاکستانی عوام کے لیے جیسے کڑے امتحانوں کی فہرست چل نکلی تھی، درزیوں نے بھی دام بڑھائے کہ کورونا کی وجہ سے کام ٹھپ ہو رہا ہے مہنگائی بڑھ گئی ہے

کہا جانے لگا کہ کورونا میں اچھی خوراک لیں تاکہ آپ میں قوت مدافعت بڑھے لیکن سبزیاں، پھل، دالیں ہر چیز مہنگی ہو گئی، اگر لوگوں نے اچھا کھا لیا تو پھر کورونا کا یہ دھندا کیسے چلے گا کمائی کیسے ہوگی، غرض ہر جگہ پر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس مشکل صورتحال میں زیادہ کمانے، لوٹ مار کر کمانے کا ایک ماسٹر پلان بنا کر بیٹھا ہوا ہے

یہاں حکیموں کا تذکرہ نہ ہو تو غلط بات ہوگی، نیم حکیم خطرہ جان یہ بہت مشہور محاورہ ہے پر حکیم اور حکیمی دوائیوں کو بھی جیسے پر لگ گئے ہیں،، سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے جان چھڑانے اور محفوظ رہنے کے لیے سنامکی جڑی بوٹی کے مشورے عام ہوئے تو مہنگائی اور قیمتیں بڑھانے کی دوڑ میں حکیم بھی میدان میں اتر آئے، سنامکی جیسے کورونا کی وبا میں بہترین چیز قرار دیا جا رہا تھا اسکی قیمت بھی بڑھا دی گئی، سنامکی 120 روپے پاؤ سے بڑھا کر 400 روپے پاؤ میں فروخت کی جانے لگی جبکہ 1600 روپے کلو قیمت مقرر کی گئی، سنامکی مشہوری کے بعد بہت سی حکیمی دکانوں سے بھی غائب ہونا شروع ہو گئی اور صرف یہ واحد جڑی بوٹی سنامکی ہی نہیں بلکہ دیگر حکیمی جڑی بوٹیاں بھی یا تو مہنگی ہو گئی ہیں یا نایاب،، جب مختلف مارکیٹوں میں جا کر پنساریوں کی دکانوں سے اس جڑی بوٹی کا پوچھا تو دام سن کر تو سر چکرایا ہی، قیمت بڑھنے کی وجہ پوچھی تو کہا گیا کورونا کی وجہ سے،، تو یہ تو عالم ہے یہاں

کچھ بھی صورتحال ہو کیسی بھی ہو، یہاں اس ملک میں صرف حکمرانوں کو گالیاں دینے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہاں تو خود آدمی ہی آدمی کا دشمن بنا ہوا ہے، یہاں تو خود سب ایک دوسرے کے دشمن بنے پھر رہے ہیں،، اس ملک میں ماہ مبارک کا نہیں سوچا جاتا تو کورونا کا کوئی کیوں سوچے گا بس یہ تو کمانے کہ دن ہیں کورونا کے گورکھ دھندے سے جتنا کما سکتے ہو کما لو لوٹ سکتے ہو جتنا کسی کو لوٹ لو، خدارا ایک دن سب اپنا ایمان بیچنے نہ پہنچ جانا اس دن سب ختم ہو جائے گا، ذرا سوچئے، غور کیجیے اور ایک دوسرے کے لیے مشکلات کا لوٹ مار کا کاروبار بند کریں، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں

متعلقہ خبریں

Leave a Comment