عوام کے لیے خوش خبری،عدالت نے چینی 70 روپے فی کلو بیچنے کا حکم دے دیا ہے۔

ویب ڈیسک ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر میں عام آدمی کے لئے چینی 70 روپے فی کلو بیچنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہاں پر مفاد عامہ کا سوال سامنے آیا ہے لیکن یہ سوال کسی نے اٹھایا ہی نہیں۔ اگر کمیشن نے عام آدمی کو چینی کی دستیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کیا پھر کیا کیا؟۔

 

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

 

شوگر ملز ایسویس ایشن کے وکیل علی خان نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا کہ آئین میں وفاق اور صوبوں کے اختیارات کا الگ الگ ذکر موجود ہے، جیسے کمیٹی نے تجویز دی تھی ویسے ہی وہ کمیشن بن گیا، کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ چینی عام آدمی کی ضرورت ہے حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات اٹھانا چاہیئں، جس مقصد کے لیے کمیشن بنا تھا وہ ایڈریس ہی نہیں ہوا، کمیشن کو عام آدمی کو چینی کی سہولت فراہمی کے لیے کچھ کرنا تھا لیکن نہیں کیا۔

 

عدالتی استفسار پر مخدوم علی خان نے بتایا کہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت 53 روپے تھی، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ 2 سال میں چینی کی قیمت53 سے 85 روپے فی کلو ہوگئی،چینی غریب آدمی کی ضرورت ہے وہ ایسے فیصلوں سے کیوں متاثر ہو رہا ہے؟ کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی فائنڈنگ نہیں دی،چینی ایک مزدور کی ضرورت ہے اور وہ کوکا کولا پر سبسڈی دے رہے ہیں، عام آدمی کو بنیادی حقوق کیوں نہیں دے رہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت عمومی طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، ہم حکومت کو نوٹس کرکے پوچھ لیتے ہیں لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے کلوچینی بیچیں، آپ کو شرط منظور ہے تو ہم آئندہ سماعت تک حکومت کو کارروائی سے روک دیتے ہیں، اس حوالے سے چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار بھی کیا کہ کیا وفاق عدالت کے آپشن کی مخالفت کرے گا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت اس کی مخالفت نہیں کریں گی۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک ملک بھر میں عام آدمی کے لئے چینی 70 روپے بیچنے کا حکم دیتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حق میں مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے رجسٹرار آفس کو کیس 10 روز کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سیکرٹری کابینہ ڈویژن، سیکرٹری داخلہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبر ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے ڈی جی انویسٹی گیشن اینڈ انٹیلی جنس کو نوٹس جاری کردیئے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment