جائیدادوں کی معلومات کےلیے جاسوسی کی گئی، قاضی فائز عیسیٰ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

اسلام آباد ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے صدارتی ریفرنس کےخلاف ایک اورجواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔جواب میں استدعا کی ہے کہ درخواست کو کیس کا حصہ بنایا جائے۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے حکومت کی جانب سے ان کی فیملی کی جائیدادوں کو مختلف ویب سائٹس کے ذریعے ڈھونڈنے کے موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر اورضیا المصطفیٰ نے عدالت کواپنے پہلے موقف کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ویب سائٹس یاسرچ انجن کے ذریعے جائیدادوں کی تلاش کےلیے ادائیگیوں سمیت مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔۔حکومت ادائیگی کی تفصیلات فراہم کرے۔

کیس کی سماعت کے دوران فروغ نسیم نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل 209 میں اہلیہ کوزیر کفالت یا خود کفیل رکھنا بلا جواز ہے۔کسی کا اپنے یا اہلیہ کے نام جائیداد ظاہر نہ کرنا قابل سزا جرم ہے۔۔۔آرٹیکل 63 کے تحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سے محروم ہوجاتا ہے، جج بھی سروس آف پاکستان میں آتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں ایک جج پر سوال اٹھے تو پورے ادارے پر سوال اٹھتے ہیں، ایک جج کو عمومی باتوں سےچیلنج نہیں کیا جاسکتا، جج بھی قابل احتساب ہیں۔۔۔آپ کیس میں مسئلے کی حل طرف آئیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ جج قابل احتساب ہیں تو حکومت بھی قابل احتساب ہے، فروغ نسیم نے کہا کہ جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں، پلگتا ہے کٹہرے میں حکومت کھڑی ہے۔

جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ کسی فورم پر یہ ثابت کریں کہ اہلیہ کو جائیداد خریدنے کیلئے جج نے پیسے دیئے، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر ایف بی آر کہہ دے کہ اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کیں تو پھر صورتحال کیا ہوگی، کیا اس بات کا امکان ہے کہ ایف بی آر اہلیہ سے ذرائع پوچھ لے۔۔۔اگر ایف بی آر رازداری کی وجہ سے جج صاحب کو اہلیہ کا ریکارڈ نہیں دے گا تو جج انضباطی کارروائی کا سامنا کیسے کرے گا؟؟

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایف بی آر پوچھے اور اہلیہ جواب دے دیں تو کیس ختم ہو جائے گا۔۔۔تاہم وہ اس سوال کا جواب متعلقہ قوانین کو دیکھ کردیں گے، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پھر اس بات پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ جواب قاضی فائزعیسیٰ ہی دیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک میں 1990 کے بعد ایسا میکانزم بنایا گیا جس کے تحت کوئی حساب نہیں ہے۔۔۔الزام یہ ہے کہ لندن کی جائیدادیں کیسے خریدیں، ارٹیکل 10 اے پر بھی مطمئن کریں، صدارتی ریفرنس میں تشویش جائیداد خریدنے کے ذرائع ہیں۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ سروس آف پاکستان کے ملازم کے بچے رولز رائس گاڑی چلائیں۔۔۔اگر 1969 کا قانون اتنا برا تھا تو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمنٹ ختم کر دیتی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment