کرونا وائرس کے مریضوں کی زندگی بچانے والی دوا مل گئی

ویب ڈیسک ۔ برطانیہ میں محققین کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ ایک دوا کرونا وائرس مرض میں مبتلا افراد کی زندگی بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
برطانوی ریسرچرز کے مطابق ‘ڈیکسامیتھاسون’ نامی ایک سٹیرؤڈ ایک تہائی شدید بیمار افراد کی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکمل ریسرچ کو جلد شائع کیا جائے گا۔ اس تحقیق کے دوران  دو ہزار ایک سو چار مریضوں کو علاج کے دوران یہ دوا دی گئی تھی اور ان مریضوں کا موازنہ ان چار ہزار سے زائد مریضوں سے کیا گیا تھا جن کا معمول کا علاج کیا جارہا تھا۔ تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس نے ایسے افراد میں اموات کو پینتیس فیصد کم کر دیا تھا جنہیں سانس لینے کے لیے مشین کے سہارے کی ضرورت تھی اور ایسے افراد میں اموات بیس فیصد کم ہو گئی تھیں جنہیں اضافی آکسیجن کی ضرورت تھی۔ یہ دوا ان مریضوں کی مدد گار ثابت نہیں ہوئی جو زیادہ بیمار نہیں تھے۔
اس تحقیق کے بانی بیٹر ہوربی کا کہنا ہے،” یہ واضح ہو گیا کہ وہ مریض جہنیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ان میں زندہ بچ جانے کی شرح کافی زیادہ ہے۔ لہذا ‘ڈیکسامیتھاسون’ کو علاج کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ

ڈیکسامیتھاسون سٹیروئڈ ہے اور اسے پہلی بار 1957 میں تیار کیا گیا تھا اور یہ علاج کے لیے 1961 میں منظور ہوئی۔ یہ ایک ایسی دوا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کی جانب سے خارج کردہ مضر مادوں کو کنٹرول میں کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوزش کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو کو وڈ کے شدید مریضوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ڈیکسامیتھاسون کوئی نئی دوا نہیں ہے بلکہ پچھلے 59 برس سے کروڑوں لوگوں کو دی جا چکی ہے اس لیے اس کے مضر اثرات کے بارے میں پہلے سے معلومات موجود ہیں۔ مہنگی دوا نہیں ہے اور اسے دنیا بھر میں زندگیاں بچانے کے لیے فوری طور پر اس کا استعمال شروع کر دیا جانا چاہیے”

متعلقہ خبریں

Leave a Comment