قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث، اپوزیشن کی حکومت پر کڑی تنقید

اسلام آباد ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں تیسرے روز بھی بجٹ پر بحث جاری رہی۔ بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہاں تقریر کرنا ایسے ہی ہے جیسے لندن میں ہائیڈ پارک میں لوگ آتے ہیں تقریر کرتے ہیں چلے جاتے ہیں کوئی متعلقہ سننے والا وزیر یہاں ہے ہی نہیں۔

 

وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا شائد کسی کو برا لگے تو لگے مگر مشیرخزانہ اور حماد اظہر کو یہاں ہونا چاہئے اور بجٹ پر تکنیکی نوٹس لینے چاہیئں۔

 

ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ نے سوالات اٹھائے پوچھا کیا نوازشریف سے رقم نکلوا لی ؟کیا گورنر ہاوسز کی دیواریں گرادیں ؟کیا پچاس لاکھ گھر ایک کروڑ نوکریاں دے دیں ؟آٹھ ہزار ارب ٹیکس جمع کرلیا۔ ؟اسحق ڈار نے ڈالر نہیں انیل مسرت کو کنٹرول کررکھا تھا۔

 

جے یو آئی کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے سیاسی جماعتوں کی جو کشمیر کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جے یو آئی اس میں نہیں بیٹھے گی کیونکہ وہاں کشمیر بیچنے والے بیٹھے ہوں گے۔

 

ایم کیو ایم کے صلاح الدین نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کراچی میں بنے جعلی ڈومیسائلز کی تحقیقات کرائی جائیں۔

 

ن لیگ کی رکن ڈاکٹرعائشہ غوث بخش پاشانے کہا بجٹ میں غریبوں کا نام لیکر امیروں کو ٹیکس رعایات دی گئی ہیں یہ بات اعدادوشمار سے ثابت کرسکتی ہوں۔

 

وزیر مملکت زرتاج گل نے کہا کہ ایک نے لاڑکانہ کو ایڈزدہ بنا دیا دوسرے نے مودی کو اس وقت ساڑھیاں دیں جب وہ ہمارے دریاؤں پر بند باندھ رہا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment