ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

اسلام آباد ۔ انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج شاہ رخ ارجمند نےعمران فاروق قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

 

عدالت نے گرفتار تینوں مجرمان معظم علی، خالد شمیم اور محسن علی سید کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران فاروق کے ورثا کو دس، دس لاکھ روپے بھی دینے کا حکم دیا ہے۔

 

محسن علی،معظم علی اور خالد شمیم کی جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری لگائی گئی،عدالت نے تینوں مجرموں معظم علی، خالد شمیم اور محسن علی سید کو عمر قید کی سزا سنائی، عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ عمران فاروق کے ورثاء کو تینوں مجرمان 10،10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں۔

 

ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو برطانیہ میں قتل کر دیا گیا تھا، ایف آئی اے نے 5 دسمبر 2015 کو پاکستان میں اس قتل کا مقدمہ درج کیا تھا ، جن پر قتل سمیت قتل کی سازش تیار کرنے، قتل میں معاونت اور سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے۔ جس کے بعد تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو گرفتار کیا تھا، عدالت نے معظم علی، خالد شمیم اور محسن علی سید پر 8 سال کے بعد 2 مئی 2018 کو فرد جرم عائد کی، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے پر 21 مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

برطانیہ نے ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی پر پاکستان کو شواہد فراہم کئے تھے۔ ایف آئی اے نے پاکستان اور برطانیہ سے کُل 29 گواہان کو عدالت پیش کیا تھا، ایف آئی اے نے 5 بارملزمان کا عدالت سےجسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔خالد شمیم ، محسن علی اور معظم علی 5 سال سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment