جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے وڈیو لنک کے ذریعے منی ٹریل عدالت میں دکھا دی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دینے کی اجازت دے دی جس کے بعد انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

 

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے کی۔

 

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے اپنی جائیداد سے متعلق بیان عدالت کے سامنے ریکارڈ بیان قلمبند کراتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں

 

سرینا عیسیٰ کے مطابق انھوں نے اپنے وکیل کے مشورے سے فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوایا تھا۔ بیان کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کا ریکارڈ بھی دکھایا اور کہا کہ انھیں یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2003 سے سنہ 2013 تک اس اکاؤنٹ سے رقم لندن بھجوائی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ جس اکاؤنٹ سے پیسہ باہر گیا وہ ان کے نام پر ہے۔

 

سکائپ پر اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں ایسا کیس بنایا گیا جیسے وہ کسی جرم کی ماسٹر مائنڈ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی اور اس خریداری کے ان کے پاسپورٹ کو بطور دستاویز قبول کیا گیا تھا۔

 

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ایک جائیداد 26 ہزار تین سو پاؤنڈ میں خریدی گئی اور ایک نجی بینک سٹینڈر چارٹرڈ کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی اور جس اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بھی ان کے نام پر ہے۔

 

اُنھوں نے کہا کہ انھوں نے کراچی میں کلفٹن بلاک چار میں بھی جائیداد خریدی جو کچھ عرصے کے بعد فروخت کر دی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کی زرعی اراضی ان کے نام پر ہے اور اس اراضی سے ان کے خاوند کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

اُنھوں نے کہا کہ یہ زرعی زمین انھیں اپنے والد کی طرف سے ملی ہے اور یہ ضلع جیکب آباد میں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے اور زرعی اراضی کی دیکھ بھال ان کے والد کیا کرتے تھے

 

درخواست گزار کی اہلیہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ سنہ 2018 کے مالیاتی گوشواروں میں لندن کی جائیداد کے بارے میں بتا چکی ہیں جس پر عدالت نے ان سے سنہ 2018 میں مالیاتی گوشواروں کا ریکارڈ بند لفافے میں طلب کر لیا۔

 

اُنھوں نے سنہ 2016 لے کر اب تک برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ بھی دکھایا۔ سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا جبکہ اس کے برعکس جب وہ پاکستان میں ایف بی آر سے ریکارڈ لینے گئی تو اُنھیں کئی گھنٹے انتظار کرایا گیا اور محض ریکارڈ لینے کے لیے ایک شخص سے دوسرے شخص کے پاس بھیجا جاتا رہا۔

 

انھوں نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ اُنھوں نے جج کے دفتر کا غلط استعمال کیا تو وہ عدالت کو بتانا چاہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر وکیل تھے تو انھیں پانچ برس کا پاکستانی ویزا دیا گیا اور جنوری سنہ 2020 میں اُنھیں صرف ایک سال کا ویزا جاری کیا گیا ہے۔

 

سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی ہیں اور ان کے وکیل ان کے ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ وہ کراچی کی رہائشی ہیں لیکن ان کا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا اور اس ضمن میں جب ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا گیا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

 

اُنھوں نے کہا کہ ان کا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق ایف بی آر کو دو خط بھی لکھے گئے۔

 

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ ہسپانوی شہریت رکھتی ہیں اور خود ان کے پاس بھی ہسپانوی پاسپورٹ ہے.

متعلقہ خبریں

Leave a Comment