سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جسے آج سنائے جانے کا امکان ہے۔ یہ کیس دس ماہ تک چلتارہا جس کی اب تک 41 سماعتیں ہوئی ہیں۔

 

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی فل کورٹ بنچ نے سماعت کی ، وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے ایف بی آرکے دستاویزسربمہرلفافے میں جمع کروائیں ، بنچ سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ کوئی آرڈر پاس کرینگے معززجج کی اہلیہ تمام دستاویزریکارڈ پرلاچکیں ہیں اس کی تصدیق کروائیں۔

 

جسٹس قاضی فائزعیسی کے وکیل منیرملک نے بھی سربمہرلفافے میں دستاویزعدالت میں پیش کرتے ہوئے ریفرنس کالعدم قراردینے کی استدعا کی ، منیراے ملک نے کہا ابھی تک سمجھ نہیں آرہی حکومت کا کیس کیا ہے؟حکومت ایف بی آرجانے کےبجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی ،بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوارہوگئے ہیں ،وزیراعظم کوکوئی نیا ادارہ یا ایجنسی بنانے کا اختیارنہیں۔

 

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے بھی دلائل دیے ، سندھ بار کونسل کے وکیل رضا ربانی بولے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے قیام کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور لامحدود اختیارات دے دیے گئے وکیل خیبرپختونخوا بارکونسل افتخار گیلانی نے ریفرنس بے بنیاد اورعدلیہ کی آزادی کے خلاف قراردیا۔

 

دلائل مکمل ہونے پرجسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ ریفرنس مکمل خارج کردیں یہ بڑا اہم معاملہ ہے، ہم آئین اورقانون کے پابند ہیں اپنا کام آئین اورقانون کے مطابق کرینگے

متعلقہ خبریں

Leave a Comment