سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ سنا دیا، سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس کو خارج کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرلی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دیے گئے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم 10رکنی فل کورٹ بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست پرآج جمعہ کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، لیکن آج شام کو ہی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔

 

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس کو خارج کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرلی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دیے گئے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔

 

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے، عدالت کے 7جج صاحبان نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا۔ایف بی آر جسٹس قاضی فائرعیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرے، ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس جاری کیا جائے۔

 

ایف بی آر کے نوٹس جج کی سرکاری رہائشگاہ پرارسال کیے جائیں۔ایف بی آر کے نوٹسز میں جج کی اہلیہ اور بچے فریقین ہوں گے۔ایف بی آر حکام معاملے پر التواء بھی نہیں دیں گے۔انکم ٹیکس 7 روز میں اس کا فیصلہ کرے، ایف بی آر حکام فیصلہ کرکے رجسٹرار سپریم کورٹ آفس کو بھیجیں۔چیئرمین ایف بی آر خود رپورٹ پر دستخط کرکے رجسٹرار آفس کو جمع کروائیں۔اگر قانون کے مطابق کاروائی بنتی ہوئی تو جوڈیشل کونسل کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔

 

جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰ آفریدی نے فیصلے میں اضافی نوٹ لکھا۔جبکہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا ۔ اس سے قبل آج سماعت کے دورا ن حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اورایف بی آر دونوں نے عدالت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا کا ایف بی آر میں جمع ٹیکس ریکارڈ سربمہر لفافے میں پیش کیا۔جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے بھی مسز فائز عیسیٰ کی منی ٹریل، زرعی زمین، پاسپورٹ کی نقول سمیت تمام دستاویزات کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔

 

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ابھی ایف بی آر کے سربمہرلفافے کا جائزہ نہیں لیں گے، نہ ہی اس پر کوئی حکم جاری کریں گے، جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ تمام ریکارڈ سامنے لاچکی ہیں، پہلے اس کی تصدیق کروائیں۔ابھی ہم جسٹس فائزعیسیٰ کے وکیل کو سنتے ہیں۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے جواب الجواب دلائل میں عدالت کو بتایا کہ لندن میں جائیدادوں کو تلاش کرنے کیلئے ویب سائٹ کا استعمال کیا گیا، ویب سائٹ پر سرچ کیلئے ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔جس کے بعد ویب سائٹ متعلقہ بندے کو آن لائن ادائیگی کی رسید بھی ای میل کرتی ہے۔حکومت اگر رسیدیں دکھائے تو سامنے آجائے گا کس نے جائیدادوں کی سرچ کی ہے۔انہوں نے عدالت کو مزید جواب الجواب دلائل میں بتایا کہ وزیراعظم کو کوئی نئی ایجنسی یا ادارہ بنانے کااختیار نہیں، اگر کوئی اثاثہ جات ریکوری یونٹ بنانا ہے تو اس کیلئے رولز میں ترمیم کرنا ہوگی۔موجودہ یونٹ کے ٹی اوآرز قانون کے خلاف ہیں۔انہو ں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پتا نہیں کیس میں کیا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment