عالم دین،مفسر قرآن اور داعی اتحاد المسلمین علامہ طالب جوہری کا انتقال

کراچی ۔ عالم اسلام کے مشہور عالم دین، مفسر قرآن علامہ طالب جوہری جو کچھ عرصے سے علیل تھے  کراچی کے آغا خان ہسپتال میں اکیس جون کی رات کراچی میں انتقال. کر گئے۔ انکی عمر اکیاسی برس تھی۔

انکی نماز جنازہ آج سوموار کو بعد از نماز ظہرین کراچی میں ادا کی جائے گی۔

اہل خانہ نےان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علامہ طالب جوہری کئی روز سے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے اور انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

علامہ طالب جوہری 1939 میں بمقام یوپی انڈیا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مصطفے جوہری کے زیر نگرانی ہوئی، 1949 میں اپنے والد کے ہمراہ پاکستان آئے، 10 سال نجف میں اعلی دینی تعلیم حاصل کی، علامہ طالب جوہری کو نجف اشرف کے ممتاز عالم، آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی، آیت اللہ سید علی رفانی، آیت اللہ سید محمد بغدادی، آیت اللہ باقرالصدر نے فارغ التحصیل ہونے کی سند دی ! علامہ 1965 کو کراچی واپس آئے۔، پانچ سال جامعہ امامیہ کے پرنسپل رہے، اس کے بعد گورئمنٹ کالج ناظم آباد کراچی میں اسلامیات کے مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔

علامہ طالب جوہری بہترین خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر بھی ہیں، شاعری کا آغاز 8 برس کے سن سے ہوا تھا، اب تک علامہ خاصی تعداد میں غزلیں، قصیدے، سلام، نظمیں اور رباعیات کہہ چکے ہیں، 1968 میں علامہ نے وجود باری کے عنوان سے پہلا مرثیہ کہا۔

علامہ طالب جوہری معروف شیعہ عالمِ دین اور ذاکر تھے اور کئی سال تک پاکستان ٹیلی وژن پر شامِ غریباں کی مجلس پڑھتے رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی ستمبر 2019 میں بھی علامہ طالب جوہری کو علالت کے باعث مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

طالب جوہری کو اہلِ تشیع اور اہلسنت دونوں ہی کی جانب سے قدر اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا

متعلقہ خبریں

Leave a Comment