اس سال حج سعودی عرب کے مقامی لوگ ہی ادا کر سکیں گے

ویب ڈیسک ۔ کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر سعودی عرب حکومت نے اس سال حج کرنے والے افراد کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سعودی عرب میں ہی مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ اتوار کے روز مملکت میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ یہ لاک ڈاؤن سعودی عرب کے بعض حصوں میں وبا کی شدت روکنے کے لیے کرفیو کی شکل میں بھی لاگو تھا۔

قبل ازیں مارچ میں ہی سعودی حکومت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو آگاہ کر دیا تھا کہ رواں برس حج اور عمرے کے معاملات میں اپنی تیاری اس حساب سے رکھیں کہ یہ دونوں مذہبی فریضے کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملتوی بھی کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر مملکت میں ہی مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو محدود تعداد میں حج کا موقع دیا جائے گا۔‘

وزارت حج و عمرہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ حج محفوظ اور صحت مند ماحول میں ہو۔ کرونا سے بچاؤ کو یقینی بنایا جائے، عازمین حج کی سلامتی کے لیے مطلوبہ فاصلہ برقرار رکھا جائے اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق شریعت کے احکامات یقینی طور پہ پورے کیے جا سکیں۔‘

سعودی عرب میں تاحال کرونا وائرس کے باعث 1267 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ ستاون ہزار سے زائد ہے۔

ادھر عمران صدیقی ترجمان مذہبی امور نے کہا یے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سفیر، سفارتی عملہ اور پاکستان حج ڈائریکٹریٹ امسال حج میں پاکستان کی نمائندگی کرینگے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment