سیاحت کورونا وبا سے بری طرح متاثر ہونے والے شعبوں میں سے ایک ہے:ماہرین

اسلام آباد ۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)کے زیر اہتمام ’سیاحت کے شعبے کی بحالی، بہتر تعمیر نو کے زیر عنوان آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاحت، معیشت اور تدریس سے وابستہ ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ سیاحت کورونا وبا سے بری طرح متاثر ہونے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔شعبے کو درپیش یہ مشکلات محصولات کی مد میں نقصان کے علاوہ پاکستان بھر میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے خاتمے کا باعث بنی ہیں۔نئی سرمایہ کاری اور حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سیاحت کا بتدریج دوبارہ آغازشعبے کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخواہ سرمایہ کاری بورڈ کے سی ای اوحسن داؤد نے کہا کہ موجودہ حالات میں درپیش رکاوٹوں کے باوجودنئے مواقع بدستور موجود ہیں جس کی ایک مثال ضلع دیر میں نئے سیاحتی مقامات کی تعمیر میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے اظہار دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مواقع سے جلد مستفید ہونے کے لیے ہمیں اپنے بنیادی ڈھانچہ میں بہتر ی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شعبے میں نجی و سرکاری اشتراک کے ساتھ افرادی قوت کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مربوط سیاحتی علاقوں کی جانب توجہ دینی چاہئے۔

ایس ڈی پی آئی کے جائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے سیاحت پر کورونا وبا کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں منسلک صنعتوں کی شرح نمو بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ’محفوظ‘ سیاحت پر معلومات کو عام کرنا ہو گا۔اس ضمن میں عالمی ادارہئ صحت جیسے اداروں کے ساتھ تعاون کو اہم گردانتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہئ سیاحت کی معاونت غریب مالک میں سیاحت کے شعبے میں ملازمتیں محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ میں شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مزید سہولت کے لیے گنجائش دی جانی چاہئے۔

ورلڈ بینک گروپ کی ماہر نجی شعبہ کرن افضل نے کہا کہ تمام حکومتی اداروں کو سیاحت کے شعبے کی بحالی کے لیے مل کر حکمت عمل مرتب کرنی چاہئے۔ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے سی ای او ہاشم رضانے سیاحت کا شعبہ دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پائیدار سیاحت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر آفتاب رانا نے کہا کہ وبا کے بعد کی صورتحال میں تمام ہوٹلوں وغیرہ کو وبا سے پاک ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔میڈ ہیٹرس کی سی ای او انیقہ علی نچلی سطح پر وبا سے بچاؤ کی تدابیر کے حوالے سے شعور کی بیداری پر زور دیا۔ پی ڈی سی کے نمائندے بابر ملک نے کہا کہ حفاظتی تدابیر کے ضمن میں ان کا ادارہ صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد عارف نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں نو وارد چھٹے کاروباری اداروں کو معاونت کی ضرورت ہے۔ بحریہ یونیورسٹی کی عروج ضیاء نے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج حفاظتی تدابیر پر عملد رآمد یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment