اسلام آباد میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھ دی گئی

اسلام آباد: 2017 میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے احکامات پر سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی ہندو پنچایت کو چار مرلے پلاٹ الاٹ کیا گیا، مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تعمیر کیا جانے والا یہ پہلا ہندو مندر ہوگا۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے ہیومن رائٹس لال مالہی مہمان خصوصی تھے۔

آزادی پاکستان کے بعد اسلام آباد میں پہلا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ہندو برادری کی عبادت گاہ کیلئے اسلام آباد کے سیکٹر H9/2 کی جگہ مختص کی گئی۔ موجودہ دور میں ہندو برادری کی عبادات کیلئے اسلام آباد میں کوئی فنکشنل مندر موجود نہیں تھا۔

مندر کی افتتاحی تعمیرات کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی  رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری ہیومن رائٹس لال مالھی نے کیا۔اس موقع  پر لال مالھی مہمان  خصوصی تھے۔ مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز کردیا گیا۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے لال مالھی نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اقلیتوں کو مسجد میں جانے سے روک رہا ہے، ہم  اسلام  آباد میں مندر کی تعمیر کر رہے ہیں، لال مالھی نے کہا کہ پاکستانی ریاست و حکومت کی پالیسی ہے کہ اقلیتوں کو حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر کی تعمیر کے لیے حکومت فنڈز مہیا کرے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ہندو آبادی کے دیرینہ مطالبے پر ملک بھر میں بند مندر کھولنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment