دونوں پائلٹس پرواز کے دوران حاضر دماغ نہیں تھے اور پائلٹس کے فوکس نہ ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا، وزیر ہوابازی سرور خان

اسلام آباد: وزیر ہوا بازی غلام سرور نے کہا ہے کہ 22 مئی کو کراچی میں ہونے والا طیارہ حادثہ پائلٹ اور ائیرٹریفک کنٹرولر کی کوتاہی سے پیش آیا۔

 

وزیر ہوا بازی غلام سرورخان نے آج طیارہ حادثے کی رپورٹ قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دی۔

 

غلام سرورخان نے کہا کہ کراچی میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) طیارے کا افسوسناک حادثہ ہوا۔ گزشتہ 72 سالوں میں 12 واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی واقعہ کی رپورٹ پیش نہیں ہوئی۔ کیا ان حادثات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا؟

 

انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے کے بعد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا گیا جبکہ طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات ہو رہی ہیں تاہم ایوان میں آج عبوری رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

 

وزیر ہوا بازی نے کہا کہ جن گھروں پر طیارہ گرا ان کا بھی سروے کیا گیا، طیارہ حادثے سے 29 گھروں کو نقصان پہنچا اور ان متاثرہ گھروں کے خاندانوں کو عارضی رہائش دی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ طیارے حادثہ جن گھروں پر ہوا وہاں ایک بچی بھی جاں بحق ہوئی تھی۔ ایئر بس ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں۔ تحقیقات میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا۔

 

غلام سرور نے کہا کہ بدقسمت کیبن کریو کے آخری الفاظ انہوں نے خود بھی سنے۔ بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے مکمل طور پر فٹ تھا۔ پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔

 

انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو طیارہ حادثہ ہوا اور 90 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور ان سب کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ میں کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کی کوتاہی سامنے آئی ہے۔ ائرکنٹرولر نے 3 بار پائلٹ کو اونچائی سے متعلق آگاہ کیا تھا لیکن پائلٹ نے ایئرکنٹرولر کی ہدایات کونظر انداز کیا۔ کوتاہی پائلٹ اور ایئرکنٹرولر دونوں کی طرف سے ہوئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ رن وے سے 3 مرتبہ انجن ٹکرایا جس کی ویڈیو میرے پاس ہے اور جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنوں کو کافی نقصان ہو چکا تھا۔ لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز 3 بار رن وے سے ٹچ ہوا۔

 

غلام سرور نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ استعمال نہیں کیا جبکہ پائلٹس کے ذہن پر کورونا سوار تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹس پرواز کے دوران حاضر دماغ نہیں تھے اور پائلٹس کے فوکس نہ ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا۔ ریکارڈ سنتے وقت پائلٹس یا اللہ یااللہ کہہ رہے تھے۔

 

دیگر طیاروں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے کہا کہ چترال طیارے کا واقعہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا تھا اور بھوجا ایئر کریش کا واقعہ انتظامی غفلت اور نامناسب تربیت کے باعث پیش آیا۔

 

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثہ، وفاقی وزیر 22 جون کو ایوان میں رپورٹ پیش کریں گے

 

انہوں نے کہا کہ ایئر بلیو اور بھوجا ائر کے کریو نے طریقہ کار کی خلاف وزری کی تھی۔ پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی ایک بدقسمتی ہے کیونکہ ماضی میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں پر تعیناتیاں سامنے آئی ہیں۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج تک کسی بھی حادثے میں ڈرائیور کو سزا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، پاکستان میں 860 حاضر پائلٹس ہیں۔ 54 کیسز میں 28 لوگوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جبکہ 18 لوگوں کو شوکاز نوٹسز کے ساتھ ساتھ انہیں سنا بھی گیا۔ کچھ پائلٹس نے روتے روتے اپنی غلطی بھی تسلیم کر لی۔

 

انہوں نے کہا کہ 262 پائلٹس ایسے تھے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیے۔ کہیں نہ کہیں اداروں کی ناکامی بھی ہے، ہمارے پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔

 

غلام سرور نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے، ہم نے اداروں کو بہتر بنانا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment