اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل گیا

آج اپنے تمام نظریاتی اختلاف ایک طرف کر کہ استاد محترم ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب کے نماز جنازہ پر گیا، استاد کی حثیت سے ان کی وفات کا دلی افسوس ہوا کہ مغیث صاحب اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے۔ پر اس بات کا اور بھی زیادہ افسوس ہوا لوگوں کا میڈیا میں آنے کہ لیے جنازے کو سامنے رکھ کر انٹریو دینا ان کے آنے کی وجہ صاف ظاہر کر رہا تھا۔

اور صحافی بھائیوں کو تو ۲۱ توپوں کی سلامی بھی کم ہے جس طرح یہ ایک جنازے کی بے حرمتی کرتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دے۔”سر جی ایک بار آپ پھر سے دیکھیں شاٹ نہیں بنا٫ تصویر بھی اتارنے دیں۔ اللّٰہ معاف کرے یہ کون سی صحافت ہے ؟؟ یہاں تو انسانیت بھی بک چکی اس کی بھی ریٹنگ دیکھی جاتی ہے🙏🙏🙏”

سر آپ کہ جانے کا افسوس بہت ہے پر اس سے بھی زیادہ افسوس لوگوں کے رویوں کو دیکھ کر ہوا کہ، آپ ساری عمر صحافتی اخلاقیات سیکھاتے سیکھاتے اس دنیا سے چلے گئے پر آپ کے پیارے میڈیا کے شگرد اور سیاسی دوست آپ کے جنازے پربھی اپنا منجن بیچنے سے باز نہ آئے، جب آپ بیمار تھے اور ہسپتال آنا جانا رہا کسی اخبار یا چینل نے خبر دینا یا چلانا مناسب نہیں سمجھا اور آج دنیا کو دکھانے کہ لیے بہت سے چینل اور اخبارات کے نمائندے آپ کہ جنازے پر بھی اپنی خبر کے منجن کے حساب سے فوٹیج اور تصاویریں بناتے رہے۔

میری دعا ہے کہ اللّٰہ پاک آپ کے لیے آگے کے معاملات میں آسانیاں کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات دے۔ آمین

ناچیز کی تحریر اس قابل تو نہیں کہ استاد کے چھوڑ جانے پر اپنے دل کا غم ظاہر کر سکے پر آج آپ جنازے پر یہ سب دیکھ کر لکھنے پر مجبور ہوں۔ غلطیوں اور گستاخیوں کی معافی بھی ساتھ ہی مانگ لیتا ہوں تاکہ اگر کسی کی دلآزاری ہوئی تو غصے کے بجائے معاف کرے۔۔۔🙏🙏

متعلقہ خبریں

Leave a Comment