بےنظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کی خاتون ڈاکٹر کوروناوائرس ناوائرس سے دو دفعہ متاثر

راولپنڈی ۔ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں ڈاکٹر اور طبی عملہ اس وقت کورونا کے خلاف جنگ میں صف اول کے سپاہی ہیں جو مشکل حالات کے باوجود جواں مردی سے وائرس کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں، اب تک ملک میں کئی ڈاکٹرز کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں جب کہ گلگت بلتستان اور کراچی میں ڈاکٹر کورونا سے شہید بھی ہو چکے ہیں۔

26 سالہ لیڈی ڈاکٹر عائشہ سمن بھی راولپنڈی بے نظیر بھٹو ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کا علاج کرتے ہوئے وبائی مرض کورونا سے دو بار متاثر ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ سمن کا کہنا ہے کہ میں نے اس سال  مارچ کے آخری 2 ہفتے بے نظیر اسپتال میں اپنی ڈیوٹی کے فرائض پر سرانجام دیے ، 28 مارچ کو کورونا آئی سی یو  میں 1 دن کی ڈیوٹی کے بعد 1 اپریل کو آبائی شہر میانوالی لوٹ گئی، گھر میں مجھے کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، کرونا ٹیسٹ کروانے کے بعد  میری رپورٹ مثبت آئی، کورونا کی ابتدائی تشخیص کے بعد اس کی علامات ہلکی تھیں لیکن مجھے سانس لینے میں تکلیف شروع ہو گئی، جس کے بعد میں نے خود کواسپتال میں داخل کروا دیا۔

9 دن کے بعد ہسپتال والوں نے میرا پی سی آر ٹیسٹ  دوبارہ کیا تو  رپورٹ منفی آئی ۔ اس کے بعد21 اپریل کو پھر پی سی آر ٹیسٹ کیا گیا جو منفی آیا، جس کے بعد ہسپتال والوں نے مجھے اسپتال سے فارغ کردیا، ہسپتال انتظامیہ نے مجھے ابھی تک بخار ہونےکی وجہ سے احتیاطاً خود کو 2 ہفتوں تک قرنطینہ کرنے کا کہا۔

ڈاکٹر عائشہ نے مزید بتایا کہ قرنطینہ کے بعد وہ کورونا سے مکمل صحت یاب ہو گئیں تھیں، انہوں نے 16 مئی کو دوبارہ بے نظیر بھٹو ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی پھر جوائن کر لی۔

31 مئی  کو مجھے دوبارہ کوروناوائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں،میں نے بی بی ایچ میں ہی اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ 3،4 دن گزرنے کے بعد بھی نہ مل سکی میری طبیعت دن بدن بگڑ رہی تھی میں مایوس ہو کر دوبارہ اپنے آبائی شہر میانوالی چلی گئی، جہاں میں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اپنا کوروناوائرس کاٹیسٹ کروایا جو مثبت نکلا، دوبارہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد میں نے خود کو ایک بار پھر قرنطینہ کر لیا ہے،

مریضہ ڈاکٹر عائشہ کے معالج ڈاکٹر احسان نقوی جو کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی میں پلمونولوجسٹ کنسلٹنٹ اور انچارج کورونا سنٹر   ہیں نے بتایا کہ عائشہ پچھلی بار ہونے والے انفیکشن سے بالکل صحت یاب ہو چکی تھیں،لیکن ہوسکتا ہے مریضہ کا مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے کووڈ 19 وائرس جو کہ نیا وائرس ہے نے دوبارہ حملہ کر دیا ہو، لیکن یہ بات ابھی تک بغیر تشخیص کے ایک  مفروضہ ہے۔

ڈاکٹر احسان نقوی کا مزید کہنا تھا کہ مریضہ وائرس کے پہلے حملے میں صحت یاب ہونے کے بعد سات ہفتوں تک تندرست رہیں مگر اب یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان پر کسی نئے وائرس نے حملہ کیا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ سمن کا تعلق شمالی پنجاب کے ضلع میانوالی سے ہے، انہوں نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے طب میں گریجویشن کی ہے، وہ حال ہی میں بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی سے طب میں پوسٹ گریجویشن کی تربیت کے لئے منسلک ہوئی ہیں۔

یاد رہے اب تک ملک بھر 6 کوروناوائرس سے متاثرہ ہیلتھ کئیر ورکرز کی تعداد 4959 تک پہنچ گئی، متاثرہ ہیلتھ کئیر ورکرز میں 975 کریٹکل کئیر یونٹ اور 3984 دیگر وارڈز میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔مجموعی طور پر 602 نرسز اور 1356 دیگر اسپتال ملازمین  کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والے ہیلتھ کئیر عملے کی مجموعی تعداد 53 ہوگئی جبکہ ملک میں مزید 51 ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہونے سے ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد3001 ہو گئی۔

2477 ہیلتھ کئیر پروفیشنل گھروں اور دیگر مقامات پر قرنطینہ ہیں،اور کورونا سے اب تک 2139 ہیلتھ پروفیشنلز صحتیاب ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment