سول ایوی ایشن کی سستی اور کوتاہی کے باعث مسافروں کی زندگی داؤ پر لگ گئی

اسلام آباد ۔ جعلی لائسنس اور ڈگریوں کے حامل پائلٹس پی آئی اے اور نجی آئیر لائن میں ہوا بازوں کو تاحال گراونڈ نہیں کیا، اور نہ ہی تاحال جعلی لائسنس والے پائلٹس کی فہرست ائیر لائنوں کے حوالے نہیں کی۔سول ایوی ایشن کی غفلت کے باعث جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس پی آئی اے سمیت دیگر نجی آئیر لائنز میں جہاز آڑا رہے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 264 پائلٹس کے لائسنس مشتبہ ہیں 150 پائلٹس پی آئی اے میں ہیں 114 ہوابازائیر لائنوں میں جہاز آڑا رہے ہیں۔ پی آئی اے نےجعلی ڈگری کے حامل 150 پائلٹس کے نام سول ایوی ایشن سے مانگ لیے، پی آئی اے جعلی ڈگریوں والے پائلٹس کو فوری طور پر گراونڈ کرنے کا فیصلہ مگر لسٹ تاحال نہیں مل سکی، پی آئی اے سمیت دیگر آئیر لائنز میں ہوا باز جہاز آڑارہے ہیں تاحال کوئی کاروائی نہ ہوسکی۔ سی ای او پی آئی اے نے دو بار سیکرٹری سول ایوی ایشن کو جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس کے ناموں کے مراسلہ بھیجا مگر جواب نہیں ملا۔

 

ترجمان پی آئی اے کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تاحال فہرست نہیں دی۔ جعلی ڈگریاں کے بنا پر 2018 اور 2019 میں 6 پائلٹس کو نوکری سے نکالا تھا۔ پی آئی اے نے 2019 میں مشتبہ لائسنس دریافت کئے جس کے بعد وزارت ہوابازی نے انکوئری شروع کی ۔ پی آئی اے نے اپنی انکوائری میں 17 ہوابازوں کے لائسنس پر شکوک تھے اور ان سب کوگراونڈ کردیا گیا ۔ تمام 17 پائلٹ ڈیڑھ سال سے گراونڈ ہیں مگر ان کی تحقیقات وزارت ہوابازی نے تاحال مکمل نہیں کی۔ مشتبہ لائسنس صرف پی آئی اے کا نہیں تمام ایئرلائنز کا مسئلہ بن چکا ہے ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ لائسنس ایشو پاکستان میں مجاز ادارے نے کئے لسٹ کے بغیر ہوابازون کو فلائنگ سے روک نہیں سکتے۔ پی آئی اے یا دیگر ائیرلائنز مجاز ادارے کا لائسنس رد نہیں کرسکتی تھیں۔ جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس کی لسٹ فراہم کی جائے تاکہ ان کو جہاز آڑانے سے روکا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment