کورونا وائرس اور ٹڈی دل کی یلغار، امتحان یا عذاب

ملک اس وقت ناگہانی آفات بحرانوں ،وباؤں اور آسمانی آفات کی زد میں ہے اورحالت جنگ کی سی کیفیت سے دوچار ہے ۔ایک طرف مہلک کورونا وائرس تو دوسری جانب ٹڈی دل کی ہولناک یلغار جاری۔ بلکہ یوں کہیں کہ اللہ تعالٰی کی ناشکری کی بناء پر ہم پر ایک کے بعد ایک عذاب مسلط ہو رہا ہے۔اللہ تعالٰی کی ناراضگی دور کرنے اور آسمان کی نامہربانیوں اور آسمانی آفتوں سے محفوظ رہنے کا صرف یہ ہی حل ہے کہ پوری قوم اللہ تبارک تعا لٰی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے توبہ کرےاجتماعی استغفار سے شاہد بربادی کی جگہ کوئی ابر ئےکرم دکھائی دے وہ ذات جو رحیم وکریم ہے رحم کرے اور ہمیں اس آفت سےنجات ملے آمین۔
ایک طرف کورونا وائرس کے قہر برسا رہا ہے ہرگزرتے وقت کے ساتھ شدت اختیار پکڑتا جارہا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد چین سے تجاویز کر گئی ہے۔جو کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے خمیازہ ہے جس میں نہ صرف قصور وار عوام ہے بلکہ حکومت کی نااہلی بھی واضح ہے عین اس موقع پر جب وائرس اپنے عروج پر تھا تو عوام کے لئے بازار کھول دیئے اور کھلا موقع دیا گیا پھر اس کے بعد ایک دم سے جو تعدادہزاروں میں تھی وہ لاکھوں کو جا پہنچی، صرف چند دنوں میں صورت حال اتنی پریشان کن ہو گئی ہے کہ حکومت نے دوبارہ سے لاک ڈاؤن اور ایس اوپیزکی خلاف ورزی پر سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، اور اب تک کی تازہ ترین اطلا عات کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی 77 ہلاکتیں، 3639 نئے کیسز رپورٹ کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 3808 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 191050 تک پہنچ گئی ہے۔
اس وبا ء سےا ب تک بچاؤ کا واحد طریقہ سامنے آیا ہے کہ سماجی دوری اختیار کی جائے۔بہرحال قوم بھی کرونا سے مقابلے کے لیئے میدان میں اتر چکی ہے وزیراعظم عمران خان کا موقف شروع ہی سے یہ ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن ناقابلِ برداشت مشکلات کا سبب بنے گا، جوکہ چند ہفتوں میں ہی حقائق کو سامنے لے آیا کہ دیہاڑی دارطبقہ دو وقت کی دوٹی کمانے سے بھی مجبور ہو گیا اور فاقوں پر نوبت آچکی تھی سو اس تمام تر صورت حال اور معاشی حالات کودیکھتے ہوئےحکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں اس بارے میں وزیراعظم نے پیغا م میں کہا کہ کہ محدود وسائل والے ممالک لامحدود لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ملک لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا، ہم لاک ڈآؤن کی طرف واپس نہیں جاسکتے، دنیا ،میں لاک ڈاؤن کھل گیا، امیر ترین ملک بھی اس کو جاری نہیں رکھ سکے اور دنیا اس معاملے میں ہمارے موقف کی معترف ہے، کورونا کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے ہیں، لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا صرف پھیلنے کی رفتار کم ہو گی۔تاہم علامتی طور ہفتے میں دو دن کے لیئےاسمارٹ لاک ڈاؤن برقرار رکھا گیاہے، تاکہ یاد رہے کہ کورونا وبا ابھی موجود ہے۔پاکستان میں ماہ جون کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے اب تک انتہائی خطرناک مہینہ ثابت ہو رہا ہے اور مزید یہ کہ کورونا وائرس کا عروج جولائی کے آخر یا اگست میں ہوگا۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کا انحصار ہم پر ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کےاسے تیزی سے پھیلنے سے روکا جائے، جبکہ دوسری طرف معاشی صورتحال گمبھیر ہے،اس سب کے دوران ٹڈی دل کا عذاب جو پاکستان پر گزشتہ کہیں ماہ سے ٹوٹ پڑا ہے‘بدستور جاری ہے۔جو ہر طرح کی فصلوں کو تباہ کر کے پاکستانی کسان اور معیشت کی کمر توڑ رہا ہے۔
ٹڈی دل کےجھنڈ کے جھنڈ آندھی کی طرح آتے ہیں، اور ایک لشکر کئی کلومیٹر پر پھیلے کھیتوں کو پلک جھپکتے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد کسان کچھ نہیں کر سکتا، ٹڈی دل اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی فصل کا صفایا کر دیتا ہے۔ٹڈی دل لاکھوں روپے مالیت کی فصل منٹوں میں چٹ کرجاتے ہیں اور کسان دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا اگریہی صورت ِ حال رہی تو ملک میں معاشی بدحالی کے ساتھ خوارک کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔یہ ٹڈی دل افریقا سے یمن‘ سعودی عرب اور پھر عمان سے ایران میں داخل ہوا تھا۔
رواں برس افغانستان سے بھی ٹڈی پاکستان آیا تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا، اور وہاں سے اس نے پاکستان آ کر تباہی مچانا شروع کر رکھی ہے۔اس مرتبہ ایران سے یہ افغانستان گیا اور وہاں سے پاکستان میں داخل ہوا اور صوبہ پنجاب کے علاقوں کی طرف چلا گیا۔
پاکستان کو ٹڈی دل سے متاثر ہونے والے چند بڑے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان میں ٹڈی دل عرب کے صحراؤں سے آیا ہے۔ ٹڈی دل کا یہ پاکستان میں 28 برس کے بعد ایک بڑا حملہ ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل اس وقت تقریباً آدھے ملک میں پھیلا ہے۔
ٹڈی دل ایک ہجرت کرنے والا کیڑا ہے، نیز یہ کیڑے غول کی صورت میں اڑتے ہیں، زمین کے اندر انڈے دیتے ہیں اور بعد میں اس زمین پر ٹڈیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ٹڈی دل کو انڈے دینے کیلئے بنجر اور سخت زمین پسند ہے اور ٹڈیاں ریتلے علاقوں میں انڈے دیتی ہیں اور پھرجب انڈوں سے کیڑے نکل آتے ہیں‘ تو غول کی شکل میں سفر شروع کردیتے ہیں اور کئی سو کلومیٹر کا سفر ایک دن میں مکمل کرلیتے ہیں۔ٹڈی دل اپنی خوارک کیلئے تازہ فصل کو کھانا پسند کرتے ہیں، نا صرف یہ فصل کو کھاتے ہیں بلکہ اکثرپودے کو بھی کھا جاتے ہیں۔ صحرائی ٹڈی کا یہ حملہ بدترین ہے،جبکہ اس کا دوسرا غول افزائش کے مرحلے میں ہے اور بارش کے بعد یہ تعداد میں بڑھ جائیں گے اوراگلا حملہ مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔
ٹڈی دل کا ایک غول کئی لاکھ ٹڈیوں پر مشتمل ہوسکتا ہے اور ان کا ایک غول35 ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں کھا سکتا ہے۔یہ دہشت گرد ٹڈیاں ایک دن میں120 کلومیڑ سفر کرسکتی ہیں اور ہزاروں ایکٹر پر موجود فصلوں کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ایک ٹڈی ایک وقت میں دو سو سے 1200 انڈے دیتی ہے۔ایک سال میں اس کی تین نسلیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک کے مطابق اگر ان کو قابو نہیں کیا گیا تو ان کی تعداد میں20 سے 25 گنا مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ یہ ٹڈیاں جہاں فصلوں پر حملہ کرتی ہیں وہیں انڈے دے جاتی ہیں اس لئے جب اگلی فصل تیار ہوگی اس سے پہلے ٹڈی دل کی بھی افزائش ہوجائے گی۔ ٹڈیوں کی افزائش کا موسم جنوری سے جون ہے۔  ۔افزائشِ نسل کے لیے ٹڈی دل نے اس وقت صحراؤں کا رخ کر رکھا ہے اور بلوچستان کے علاوہ چولستان اور دیگر ریتیلے علاقوں میں اپنی تعداد کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔اس کے بعد میدانی علاقوں میں ان کی افزائش برسات کے موسم میں ہو گی۔اگر اس کاخاتمہ ابھی نہیں کیا گیا تو مون سون کے بعد ان کی تعداد دُگنی ہوجائے گی۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہی ہے لیکن یہ زمینی حقیقت ہے کہ پاکستانی کسان اور زراعت کسی بھی حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں رہے۔ ٹڈل دل نے پہلے ٹماٹر کی فصل پر حملہ کیا اور یوں ٹماٹر کی فصلیں تباہ ہونے کے باعث شدید قلت پیدا ہونے سے قیمت چار سو فی کلو تک جا پہنچی۔چند ماہ قبل ٹڈیاں سندھ کے علاقوں گھوٹکی اور کشمور میں داخل ہوئی تھیں۔اب تازہ ترین صورت ِ حال کے مطابق تمام صوبوں کی انتظامیہ کی جانب سے ناکافی اقدامات کے سبب کسان شدید گرمی کے باوجود ہاتھوں میں تھال اور پلاسٹک کی بوتلیں لیے اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیاں بھگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘یہ صورت ِ حال انتہائی پریشان کن ہے۔ٹڈی دل کے حملوں نے پاکستان کی زراعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
محکمہ زراعت اس خطرے سے بہت پہلے سے واقف تھا تاہم وسائل کی کمی کے باعث وہ اس خطرے کا مقابلہ نہیں کرسکا۔ 12 جنوری کو پلانٹ پروٹیکشن یونٹ کا سپرے والا جہاز ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے رحیم یار خان پر سپرے کرتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا تھا لہٰذا اس حادثے کے بعد ٹڈی دل کے خلاف کام مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے گندم کی فصلوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ بلوچستان کے بعد ٹڈی دل نے سندھ اور پنجاب کا رخ کیا۔ یہاں پر بھی گندم، سرسوں، مکئی اور کپاس کی فصلوں کو تباہ کیا۔ ذہن نشین رہے کہ مارچ سے ٹڈی دل سے نمٹنے کی ذمہ داری این ڈی ایم اے کوسونپ دی گی ہے، وہ محکمہ زراعت پلانٹ پروٹیکشن فوڈ سکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ٹڈی دل پاکستان کی ربیع اور خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچائے گا۔پاکستانی کسانوں کے مطابق ٹڈی دل آندھی کی طرح آتے ہیں اور یہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سورج کی روشنی کم پڑجاتی ہے اور یہ غذائی دہشت گرد منٹوں میں فصلوں کو چٹ کرجاتے ہیں۔ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے تھا۔
فصلیں کھانے والا ٹڈی دل اس وقت ملک کے 52اضلاع میں موجود ہے جہاں ٹڈی دل کے وار جاری ہیں۔ان اضلاع میں ٹڈی دل نے حملہ کر کے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ نئی بات نہیں لیکن اس بار ٹڈی دل کے لشکروں کی تعداد اور فصلوں ہر حملوں میں اضافے نے ماہرین حشرات کو پریشان کر دیا ہے۔
ٹڈی دل کے حالیہ حملے سے اس کی زراعت تباہ ہو گئی ہے۔ ٹڈی دل نے سندھ اور شمالی پنجاب میں کپاس کی فصل کا صفایا کر دیا ہے۔ بلوچستان پر بھی حملہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند برس سے کپاس کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس بار تو نقصان اور بھی شدید ہے۔ ٹڈی دل چاول کی پنیری بھی صاف کر گیا ہے۔ آم کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے ۔ٹڈی کا لعاب پھل ،پھول ، سبزیوں ، اور پودوں کیلئے اب بڑا خطرناک ہوتا ہے جہاں لگ جاتا ہے اس چیز کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔کھڑی فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے سے سب سے زیادہ کسان متاثر ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان کے گھروں میں فاقے پڑ جائیں گے‘ لیکن صرف وہ ہی نہیں بلکہ ملک کہ61 اضلاع اس سے شدید متاثر ہو ئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس پر قابو کیسے پایا جائے؟ ملک بھر میں ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے کے بعد محکمہ زراعت ،فوڈ سکیورٹی اور پاک آرمی نے مشترکہ طورپر ٹڈیوں کے خاتمے کیلئے کنڑولٹر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کے مطابق ملک کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے بھر پور سروے آپریشن جاری ہے مگر اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی سامنے نہیں آئی۔جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر غذائی تحفظ وتحقیق سید فخر امام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اور عمان سے ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ ہے۔
بڑھتے ہوئے ٹڈی دل کے حملوں کے باعث ملک ہر لمحہ غذائی قلت کی طرف بڑھتا قدم ہو گا مگر حکومت کو اس کی سنگینی کا شاہد علم نہیں۔اس کے باوجود ہماری حکومت نے اس مسئلے کو انتہائی غیر سنجیدگی سے لیا ہے، جب کہ زمینی حقائق کے مطابق ٹڈی دل کے مسلسل کئی ماہ سے جاری حملوں کے نتیجے میں ملک میں غذائی قلت اور اور قحط پیدا ہونے کے امکانات واضح ہیں۔لیکن ماسوائے چند خوش کن دعوؤں اور بیانات کے بعد اب تک کوئی عملی طور پراقدامات سامنے نہیں آئے، جس کی واضح مثال ہمارے منتخب نمائندے اور وزراء کی ناسنجیدگی کی سامنے ہے۔ حال ہی میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کووڈ 19 کے پوائنٹس بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا نام کووڈ 19 اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اس کے انیس پوائنٹس ہوتے ہیں اور ہر پوائنٹس ہر ملک پر الگ طریقے سے اثر انداز ہوسکتا ہے۔
زرتاج گل کی جانب سے کووڈ 19 کو دراصل 19 پوائنٹس قرار دینے پر سوشل میڈیا پر ان پر خوب تنقید کی گئی تھی اور 21 جون کو ان کا نام ٹاپ ٹرینڈ رہا۔جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی رکن اسمبلی ریاض فتیانہ نے 24 جون کو قومی اسمبلی میں اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ٹڈی دل کے حوالے سے عام مفروضہ پایا جاتا ہے کہ انہیں کھانے سے کورونا کی وبا ختم ہوجاتی ہے۔ حکومت اس مفروضے سے متعلق تحقیق کروائے اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی ٹڈی دل سے کورونا ختم ہوجاتا ہے تو حکومت کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی، پاکستانی قوم خود ہی ٹڈی دل کا تیا پانچا کردے گی۔
ریاض فتیانہ کی جانب سے ٹڈی دل کھانے سے کورونا کے خاتمے کے مفروضے کی بات ایوان کے فلور پر کہے جانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
ریاض فتیانہ نے ٹڈی دل اور کورونا سے متعلق بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ٹڈی دل کے حملوں پر قابو نہ پانے پر بھی حکمران جماعت پی ٹی آئی کو تنقید کا سامنا ہے۔اس سب سے حکومت کی نااہلی اور ناسنجیدہ رویہ کھول کے سامنے آگیا ہے۔ہنسی مذاق میں کبھی ٹڈی دل کی بریانی تو کبھی مختلف ڈش میں اس کا استعمال اور اور اب کورونا کا علاج بتا کر انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ اس تمام تر صورت حال میں افسوس کا مقام ہے۔
چند دن قبل امریکی ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن نے حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ ایکشن پلان پر فوری عمل نہ کیا گیا تو بارشوں کےبعد ٹڈی دَل کے حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ٹڈی دَل کی وجہ سے آدھی فصل برباد ہوسکتی ہے اور مقامی تخمینے کے مطابق ایک ہزار ارب روپے کا نقصان متوقع ہے۔
ستم یہ ہے کہ عالمی ادارۂ خوراک ہر بار رپورٹ جاری کرتا ہے کہ ٹڈی دل دنیا میں کہاں سے اٹھ رہا ہے اور کدھر کا رخ کرے گا۔ اس بار بھی عالمی ادارے کی طرف سے پاکستان کو رپورٹ بھجوائی گئی تھی‘ جس کو شاید خاطر میں نہیں لایا گیا۔اب کہا جا رہا ہے کہ ٹڈی دل کے ایک اور خطر ناک حملہ ہو سکتاہے لہٰذا محکمہ زراعت‘ این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ ادارے بر وقت اقدامات کریں تاکہ پاکستانی کسان اور معیشت کو ٹڈی دل کے عفریت سے ہر صورت بچایا جا سکے، ورنہ اس نقصان سے زرعی معیشت کا جنازہ نکل جائے گا۔ آپ خود فیصلہ کریں اگر حکومت وقت پر ٹڈی دَل کے خطرے کو بھانپ لیتی تو کسانوں کا کتنا بھلا ہوتا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کورونا وائرس اس وقت حکومت کے ا عصاب شل کیے ہوئے ہے اس لیے وقت پر سپرے نہ ہوسکا اور ٹڈی دَل کا مسئلہ بے قابو ہوگیا۔ حکمران یاد رکھیں اگراب بھی اس کو لگام نہ دی گئی تو پاکستان کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔سب کو معلوم ہے کہ کورونا وائرس اور ٹڈی دَل اس وقت بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں مگر ایک آفت ان سے بھی بڑی ہے اور وہ ہے حکمرانوں میں قوت ِفیصلہ کا نہ ہونا ۔ میرا احساس ہے کہ یہ آفت تمام آفتوں کی مرشد ہے ۔ اس کو قابو کر کے کورونا اور ٹڈی دَل کو آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment