افغان طالبان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے الزامات مسترد کر دئیے

کابل ۔ افغان طالبان نے گزشتہ جمعہ کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس کی خفیہ ایجنسی طالبان جنگجوؤں کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے پر انعامات دیتی ہے۔

 

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کہا تھا کہ جیسے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا اور امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش شروع کی، روس کی انٹیلی جنس سروس کی ایک بدنام زمانہ شاخ نے طالبان جنگجوؤں کو امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی ترغیب دینے کے لیے انعامات دیے گئے۔

 

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کابل سے جاری ایک بیان میں ہے کہ اسلامک امارات افغانستان کا 19 برس کا جہاد کسی انٹیلی جنس ادارے کی شاخ یا کسی ملک کا مرہون منت نہیں ہے۔

 

ترجمان طالبان نے امریکہ کی جانب سے لگائے ان الزامات کی بھی سختی سے تردید کی ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ روس نے ان کو اسلحہ دیا تھا۔

 

ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ اسلامک امارات نے ان ہتھیاروں اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا ہے جو پہلے ہی سے افغانستان میں موجود تھیں یا مخالفین کے ساتھ اکثر لڑائیوں میں قبضے میں لیے گئیں تھیں۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نےکہا کہ کہ امریکی فوجیوں کے خلاف حملوں میں گھروں میں بنائے جانے والا دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جاتا رہا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ ایسی افواہیں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔

 

 

افغان طالبان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ فروری میں ہونے والے معاہدے کے پابند ہے، اس معاہدے کی رو سے اگلے سال کے وسط سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔

 

دوسری طرف روس نے بھی نیویارک ٹائمز کے رپورٹ کی مذمت کی ہے۔ واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے کہا ہے کہ ان بے بنیاد الزامات کی وجہ سے واشنگٹن اور لندن میں روسی سفارتخانوں کے ملازمین کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ ہے۔

 

روسی سفارتخانے نے ہیش ٹیگ فیک نیوز اور نیویارک ٹائمز کو مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ وہ جعلی خبریں دینا بند کرے جو زندگیوں کو خطرات میں ڈالتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment