دہشت گرد تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے کراچی حملے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی ۔ پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث انتہا پسند کالعدم م تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پیر کی صبح کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے میں ملوث افراد کے نام بھی جاری  کردئیے ہیں، جن میں تسلیم بلوچ عرف مسلم، شہزاد بلوچ عرف کوبرا، سلمان حمال عرف نوٹک اور سراج کُنگر عرف یاگی شامل ہیں۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے قریب دہشت گردوں کے حملے میں ‌میں ایک پولیس اہلکار سمیت 3 افراد شہید ہو گئے, سیکیورٹی فورسز نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 4 دہشتگردوں‌ کو ہلاک کر دیا۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ تحقیقاتی اداروں نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے۔

پولیس کے مطابق 4 مسلح افراد نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا جس کے بعد فائرنگ کی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ دستی بم حملے اور فائرنگ میں 4 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار، اسٹاک ایکسچینج کا سیکیورٹی گارڈ اور 2 شہری شامل ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کا بتانا ہےکہ دہشت گردوں کے حملے میں 2 شہری جاں بحق بھی ہوگئے ہیں۔

انچارج انسداد دہشتگردی ونگ راجہ عمر خطاب نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے برآمد کیے گئے سامان میں بھاری تعداد میں دستی بموں اور جدید ہتھیاروں کے علاوہ پانی کی بوتلیں بھنے ہوئے چنے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کے پاس سے برآمد ہونے والے سامان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملزمان نے اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں گھسنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے طویل دورانیے تک لڑنے کا سامان جمع کر رکھا تھا اور دہشت گردوں کی زندہ واپسی مشن میں شامل نہیں تھی۔راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے پاس سے خودکش جیکٹ نہیں ملی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment