حکومت نے پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا

پی ٹی آئی حکومت نے پی آئی اے کے ہوٹل کی نجکاری کا اعلان کر دیا، کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نےامریکی شہر نیو یارک کے سب سے قیمتی علاقہ مین ہٹن میں پی آئی اے کی ملکیتی روز ویلٹ کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ کابینہ نجکاری کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس میں پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹلز نیویارک کی نجکاری کا جائزہ لیا جائے گا۔ پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی آمدن متوقع ہے۔

سنہ 1979 میں پی آئی اے نے سعودی عرب کے شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر اس کو لیز پر حاصل کر لیا۔ اس لیز کی شرائط میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ بیس برس بعد اگر پی آئی اے چاہے تو اس ہوٹل کی عمارت بھی خرید سکتی ہے۔

سنہ 1999 میں پی آئی اے نے اس شق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوٹل کی عمارت کو تین کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔ پی آئی اے کو ہوٹل کی عمارت خریدنے سے پہلے ہوٹل کے اسوقت کے مالک پال ملسٹین کے ساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔

پال ملسٹین کا خیال تھا کہ ہوٹل کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے قبل سنہ 2005 میں پی آئی اے نے سعودی پرنس کے ساتھ ایک سودے میں روزویلٹ کے 99 فیصد شئیر خرید لیے اور سعودی شہزادے کے پاس صرف ایک فیصد شیئر ہی رہ گئے۔

سنہ 2007 میں پی آئی اے نے ہوٹل کی مرمت اور از سر نو تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جس پر چھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کا خرچہ آیا۔ اس کے بعد پی آئی اے نے اپنے مالی خصاروں کو پورا کرنے کے ہوٹل کو بیچنے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔

روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے مرکز مینہیٹن کی 45ویں اور 46 ویں سٹریٹ کے درمیان واقع ہے جو نیویارک کے گرینڈ سنٹرل سٹیشن سے صرف ایک بلاک دور ہے۔ یہاں سے ٹائمز سکوائر اور براڈ وے جانے میں صرف پانچ منٹ لگتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment