افریقی ملک بوٹسوانا میں 350 سے زائد ہاتھی پراسرار بیماری سے ہلاک

اطلاعات کے مطابق افریقی ملک بوٹسوانا میں 350 سے زائد ہاتھی پراسرار بیماری سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

اوکاوانگو ڈیلٹا میں ہاتھیوں کی اموات کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب اس سال مئی کے آخر میں 169 ہاتھی ہلاک ہوئے تھے۔مقامی ذرائع کے مطابق وسط جون کے آخر تک یہ تعداد دگنی سے زیادہ ہوچکی ہے ، جس میں 70 فیصد اموات پانی کے جوہڑوں کے قریب ہوئی ہیں۔

برطانیہ میں واقع چیریٹی نیشنل پارک ریسکیو کے تحفظ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نیل میک کین نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑے پر پیمانے کی اموات ہیں جو پہلے نہیں دیکھی گئی ہیں، قحط سالی سے کسی مرنے والی بیماری کا میں نہیں جانتا ہوں۔

بوٹسوانا کی حکومت نے ابھی تک نمونوں کی جانچ پڑتال نہیں کی ہے لہذا ان کے پاس مردہ ہاتھیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں کہ اموات کی کیا وجہ ہے یا وہ انسانی صحت کو خطرہ لاحق کر سکتی ہیں۔

مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ ہاتھیوں کو دائرےمیں میں گھومتے دیکھا گیا ہے جو کہ اعصابی بیماری کا اشارہ ہے۔ اگر آپ لاشوں کو دیکھیں تو ان میں سے کچھ سیدھے منہ پر گرے ہوئے ہیں جو اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ ان کی موت بہت جلدی ہوگئی تھی۔

مقامی اطلاعات کے مطابق ہر عمر اور دونوں جنسوں کے ہاتھی مر رہے ہیں۔ متعدد زندہ ہاتھی کمزور کے باعث لاغر ہو چکے ہیں جو کہ اس خطرے کا عندیہ دے رہے ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔ محافظوں کا کہنا ہے کہ اموات کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ لاشوں کو تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

ماحولیاتی نظام کے خاتمے سے جنگلی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں، ڈیلٹا میں قریب 15،000 ہاتھی ہیں ، جو ملک کے کل 10٪ ہیں۔ ماحولیاتی سیاحت بوٹسوانا کی جی ڈی پی کے 10 سے 12 فیصد کے درمیان حصہ ڈالتی ہے جو ہیروں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

میک کین نے کہا کہ ھم ہاتھیوں کو ملک کے اثاثوں کے طور پر دیکھتے ہیں، اوکاوانگو ڈیلٹا کے گرد گھومتے یہی ہیرے ہیں یہ جنگلی حیات کی تباہی ہے، اس میں ایک ایسے ملک کی بات کی گئی ہے جو اپنے قیمتی وسائل کی حفاظت میں ناکام ہو رہا ہے۔

مرنے والے ہاتھیوں کی لاشوں کو ہٹایا نہیں گیا ہے اور تحفظ پسندوں نے حکام سے زور دیا ہے کہ وہ لاشوں کی حفاظت کریں تاکہ شکاری ان کو نہ لے جائیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک میں ہاتھیوں کی ہلاکت کی کوئی اطلاعات نہیں ہے۔

بوٹسوانا کے محکمہ وائلڈ لائف اور نیشنل پارکس کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر سیرل طولو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہم ہاتھیوں سے واقف ہیں جو مر رہے ہیں، ہم نے 350 جانوروں میں سے 280 جانوروں کی تصدیق کردی ہے جبکہ ہم ابھی باقی کی تصدیق کے عمل میں ہیں۔

انہوں نے کہا ہم نے نمونے جانچ کے لئے روانہ کیے ہوئے ہیں اور ہم اگلے دو ہفتوں میں نتائج کی توقع کر رہے ہیں۔ کوویڈ 19 پابندیوں کے باعث خطے اور دنیا بھر میں نمونوں کی نقل و حمل میں مدد نہیں مل رہی۔ تولو نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ انہیں کون سی لیبارٹریز میں بھیجا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment