پاکستان سٹیل ملز: سوشل میڈیا پر صارفین وفاقی وزیر اسد عمر کو ’شرمندہ‘ کرنے کی کوششوں میں مصروف

حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز کا خسارہ 415 ارب روپے ہو چکا ہے لہٰذا وہ اِسے خود نہیں چلا سکتی
پاکستان سٹیل مِلز ایک طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہے اور ماضی میں متعدد حکومتوں نے اس ادارے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

اب ایک بار پھر یہ موضوع بحث بن گیا ہے اور اس کی وجہ وہ حالیہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے تحت طویل عرصے سے بندش کا شکار پاکستان سٹیل مِل کے تمام ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔

بدھ کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک سمری کی اصولی منظوری دی ہے جس کے تحت اس مل کے تمام 9350 ملازمین کو واجبات اور دیگر ادائیگیوں کے بعد ملازمت سے فارغ کرنے کا پروانہ تھما دیا جائے گا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے اس سمری کی منظوری کی خبر منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ عام شہریوں کے علاوہ سیاسی شخصیات، سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی یونینز اور تنظیموں کے نمائندگان اور صحافی حضرات نے اس پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔

بیشتر نے اس فیصلے کی مذمت کی جبکہ بہت سوں نے اسے موجودہ حکومت کی ناکامی سے تعبیر کیا۔ چند صارفین موجود حکومت کے نمائندوں اور وزرا کی جانب سے ماضی میں پاکستان سٹیل مل کے حوالے سے کیے گئے بلند و بانگ دعوؤں کی یاد دلانے میں مصروف رہے۔

سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے سندھ کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اسد عمر کو ٹیگ کیا اور اُن سے سوال پوچھا کہ ’مجھے علم ہے کہ آپ ای سی سی (اقتصادی رابطہ کمیٹی) کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے مگر کیا آپ ای سی سی کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر پاکستان سٹیل مل کے ملازمین سے اپنے پرانے خطابات کے تناظر میں؟ وزیر اعظم تو یو ٹرن لیتے رہتے ہیں، مگر آپ تو اپنے کہے پر ڈٹے رہتے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟‘

یاد رہے کہ جب تحریک انصاف حزبِ اختلاف میں تھی تو وفاقی وزیر اسد عمر نے سٹیل مل کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کی حکومت آئی تو وہ سٹیل مل کو دوبارہ چلا کر دکھائیں گے۔

انھوں نے ملازمین سے خطاب میں کہا تھا کہ ’میری ویڈیو ریکارڈ کر لیں تاکہ اگر میں اپنے بیان سے پیچھے ہٹوں تو کل آپ مجھے یہ دکھا کر شرمندہ کر سکیں۔ میں آپ کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت آئی اور سٹیل مل کے مزدوروں کے خلاف کوئی فیصلہ کیا گیا تو میں تحریک انصاف کے ساتھ نہیں بلکہ سٹیل مل کے مزدوروں کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘

اب یہی ویڈیو صارفین سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں اور اسد عمر کے کہے ہوئے الفاظ کے مطابق انھیں شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعید خان نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ سٹیل مل کارکنان کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے، ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔‘

شہریار بھگت نے جو اپنے ٹوئٹر پروفائل کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی طلبہ ونگ کے رہنما ہیں، وزیر اعظم عمران خان کا ماضی کا ایک خطاب شیئر کیا۔ اس خطاب میں اپوزیشن رہنما کے طور پر عمران خان سٹیل مل کے ملازمین کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اگر ان کی حکومت آتی ہے تو وہ سٹیل مل کو کیسے اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے۔

شہریار بھگت نے لکھا کہ ماضی میں عمران خان کہتے تھے کہ مینیجمینٹ لا کر سٹیل مل کو بہتر بنائیں گے جبکہ موجود وقت میں عمران خان کی حکومت نے 9350 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا ہے۔

نجی ٹیلی ویژن چینل سے منسلک صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے لکھا کہ ’آپ کو دس کروڑ نوکریاں دینے اور بیرون ملک سے پاکستانیوں کا اپنے ملک میں نوکریوں کے لیے واپس آنے کا وعدہ یاد ہے؟‘

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’نوکری پیشہ افراد کو نوکریوں سے فارغ کرنا پی ٹی آئی کے منشور میں شامل نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کا نعرہ تھا کہ ہم لاکھوں نوکریاں دیں گے۔ سٹیل مل کے مزدوروں کو نوکری سے نکالنا سندھ سے دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’حکومت کو اب عوام الناس کی پرواہ کرنے کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان خطاب کرتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے کِس طرح مزدوروں اور نوکری پیشہ افراد کی مدد ہو گی مگر دوسری طرف اُن کی حکومت سٹیل مل کے کارکنان کو بیروزگار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔‘

سرخ مناہل نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سٹیل مل آٹھ ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کر رہی ہے جبکہ سنہ 2013 کے بعد ریٹائر ہونے والے چار ہزار سٹیل مل ملازمین کو ان کے ریٹائرمنٹ فنڈز نہیں ملے۔ واجبات کی وصولی سے قبل ہی 600 سے زائد ملازمین انتقال کر چکے ہیں۔ برائے مہربانی اس مسئلے پر آواز اٹھائیے۔‘

مناہل نے اپنے تھریڈ میں یہ بھی کہا کہ ’پاکستان سٹیل مل کے ملازمین بیس سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں اور اپنے گھر والوں کے لیے واحد ذریعہ معاش ہیں۔ یہ ناانصافی ہے۔‘

انسانی حقوق کے کارکن عمار علی جان نے ٹویٹ کی کہ ’حکومت کا نو ہزار گھرانوں کو اس عالمی وبا کے دوران غیر محفوظ کرنا کسی مجرمانہ فعل سے کم نہیں۔‘

ایک اور صارف نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جسے گولڈن ہینڈ شیک کے بعد پینشن ملی ہو۔ میرے والدین ایک وقت میں این ڈی ایف سی کے ملازمین تھے۔ ان سے این بی پی میں نوکری ملنے اور پینشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کبھی بھی پورا نہیں ہو۔ سٹیل مل کے کارکنان کو بھی کبھی اپنی پینشن نہیں ملی۔‘

محمد عمران مہدی نے لکھا کہ ’صاف بات یہ ہے کہ ماضی میں عمران خان اور اُن کی ٹیم کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود تھا جس میں سٹیل مل بھی شامل ہے۔ مگر وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتخابات کے لیے سیاسی جملہ بازی کے علاوہ کچھ نہیں تھی جو ووٹر کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں